مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل کے دیرینہ اتحادی امریکہ کی طرف سے ہفتے کے روز مزید فوجی کمک خطے کی طرف روانہ کر دی ہے۔ یہ امریکی اقدام ایک ایسے وقت اٹھایا گیا ہے، جب غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیل کی چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں وسعت آنے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
اس خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا، جب یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر ایک فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر کمانڈر اور چھ دیگر افسران مارے گئے تھے۔ تہران نے اس حملے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے اس کارروائی کا جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔
اس دوران ہفتے کے روز ایک اور اہم پیش رفت میں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے ایم ایس سی ایریز نامی ایک مال بردار بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ‘اسرائیل سے منسلک‘ ہے۔
ایرنا کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے قبضے میں لیے گئے اس کنٹینر بردار جہاز کو ایران کے علاقائی پانیوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ایرنا کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ کے گارڈز کے خصوصی دستے نے ایک ہیلی کاپٹر سے رسوں کے ذریعے اتر کر اس پرتگالی پرچم والے تجارتی جہاز پر قبضہ کیا۔
اطالوی سوئس شپنگ گروپ ایم ایس سی نے ہفتے کے روز کہا کہ خلیج میں ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے قبضے میں لیے جانے والے کنٹینر جہاز پر عملے کے 25 ارکان سوار تھے۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے افسوس ہے ” جہاز پر پچیس افراد کا عملہ موجود ہے اور ہم ان کی صحت اور جہاز کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘‘
مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پہلے ہی ہزاروں فوجی موجود ہیں اور وہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔ ایران کی اسرائیل کو حالیہ دھمکیوں کے بعد اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ فضائی دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے اور اس نے اپنے جنگی یونٹوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے. امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کریلا کو مذاکرات کے لیے اسرائیل بھیجا ہے۔ جمعہ کو کریلا سے ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گالینٹ نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ جنگ کے موضوع پر کچھ اختلافات کے باوجود ”کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔‘‘ گالینٹ نے کہا، ”ہمارے دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کو الگ کر سکتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، وہ ہمیں اکٹھا کر رہے ہیں اور ہمارے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں









