یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ اسپین، آئرلینڈ اور یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک 21 مئی کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کا یہ بیان اقوامِ متحدہ میں فلسطینیوں کے مکمل رکن بننے کے لیے جمعے کو ہونے والی متوقع ووٹنگ سے قبل سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے مارچ میں کہا تھا کہ اسپین اور آئرلینڈ نے سلووینیا اور مالٹا کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھانے پر اتفاق کیا ہے اور وہ دو ریاستی حل کو دیرپا امن کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق بوریل نے ایک ہسپانوی ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ یورپ کے ان ملکوں کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "سیاسی نوعیت کا ایک
علامتی عمل ہے۔”
ان کے بقول یہ اقدام ایک ریاست سے زیادہ اس ریاست کے وجود کے عزم کو تسلیم کرنے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیلجیم اور دیگر ممالک شاید اس اقدام کی پیروی کریں گے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں غزہ میں اسرائیل کی جارحیت میں ہلاکتوں میں اضافے ک ساتھ ساتھ جنگ بندی اور فلسطینی-اسرائیل تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے بین الاقوامی مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق پچھلے سال سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پرحملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی حملوں میں اب تک 34,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حملے کے دوران تقریباً 250 لوگوں کو یرغمال بھی بنالیا تھا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ "دہشت گردی کا انعام” ہے جس سے غزہ تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
سال 1988 سے اب تک اقوامِ متحدہ کے 193 ارکان میں سے 139 فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔ جب کہ یورپی یونین میں شامل 27 ممالک میں سے آٹھ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رکھا ہے۔(سورس:وائس آف امریکہ)









