امیٹھی سے گراؤنڈ رپورٹ
راہل گاندھی کے امیٹھی سے نہ اترنے کا سب سے زیادہ اثر اسمرتی ایرانی پر پڑا ہے ۔انہیں کوئی پوچھ نہیں رہا اور میڈیا سے تو بالکل غائب ہوگئی ہیں ۔اس کے علاوہ امیٹھی وی وی آئی پی سیٹ بھی نہیں رہی کانگریس کے داؤ سے ایرانی چاروں شانے چت ہوگئی ہیں حتی کہ پارٹی بھی وہ اہمیت نہیں دے رہی ہے
امیٹھی کا ماحول بدلا ہوا ہے
سماجوادی سے اتحاد کی وجہ سے کانگریس امیدوار کے ایل شکلا کی پوزیشن مضبوط لگ رہی ہے – اب اسمرتی ایرانی سے سوالات پوچھے جا رہے ہیں، جواب دینے کی باری ان کی ہے۔ پرینکا گاندھی انہیں گھیرنے کے لیے رائے بریلی اور امیٹھی میں ڈیرا ڈالے ہیں۔ ان کی کوششوں کا ووٹوں میں کتنا بدلاؤ ہوتا ہے اس کا نتیجہ بعد میں سامنے آئے گا۔ لیکن میڈیا کی توجہ کے نقطہ نظر سے، فی الحال پرینکا نے بازی مارلی ہے اور اسمرتی اسکرین سے غائب ہوگئی ہیں یہ سب سے بڑا بدلاؤ دیکھا جاسکتا ہے-امیٹھی سے راہل کی امیدواری کو بی جے پی بیانیہ بنانے کی کوشش کررہی ہے مگر یہ سوال بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے پرینکا کی مہم کی بدولت امیٹھی انتخابات میں گاندھی خاندان مرکز میں ہے۔ ظاہر ہے کہ نتائج براہ راست ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت کا بھی امتحان لیں گے
کانگریس امیدوار کشوری لال شرما یہاں چالیس سال سے سرگرم ہیں وہ یہاں کانگریس امیدواروں کی مہم کی کمان سنبھالتے رہے ہیں آج خود امیدوار ہیں وہ ایک ایک ووٹر کو نام اور صورت سے جانتے ہیں –
یہاں برہمن ووٹروں کی بڑی تعداد ہے جو بی جے پی کا کور ووٹر ہے پہلے یہ کانگریس کے ساتھ تھا مگر اس بار ہوا بدلی سی ہے ۔برہمن ووٹروں کی بی جے پی سے دوری صاف جھلک رہی ہے کے ایل شرما کا برہمن ہونا بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے ،جبکہ راجپوت برادری کا بڑا حصہ بی جے پی سے سخت ناراض نظر آرہا ہے -رہے مسلمان تو گرچہ امیٹھی میں ان کی آبادی زیادہ نہیں ہے لیکن وہ گٹھ بندھن کے ساتھ ہیں ۔اور اس بار سماجوادی الگ نہیں ہے توان میں کوئی کنفیوزن بھی نہیں ہے –
ابھی تک بی جے پی کا کوئی بڑا لیڈر یہاں نہیں آیا ہے امید ہے کہ نڈا ،امت شاہ،یوگی اور وزیراعظم یہاں آئیں گے لیکن بی جے پی خیمہ میں وہ جوش وخروش نہیں ہے ،اور اسمرتی ایرانی کو جتانے کا وہ جنون نہیں جو 2019 میں نظر آیا تھا اس کی وجہ غالبا راہل کا حریف نہ ہونا ہے -دوسری طرف پرینکا وہاں سرگرم ہیں۔ وہ ایک اچھی اسپیکر ہیں، بھائی راہل گاندھی کے برعکس، وہ سننے والوں سے بغیر غصہ ہوئے پرسکون اور کمپوزنگ انداز میں جڑتی ہیں۔ وہ پبلک کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور اسمرتی ایرانی کے مقابلہ میڈیا کی پسندیدہ، ٹی آر پی والا بڑا چہرہ ہیں ۔ وہ سوالات سے باز نہیں آتیں اور کچھ ایسی باتیں کہتی ہیں جو سرخیاں بن جاتی ہیں۔ سونیا کافی دنوں سے رائے بریلی سے غائب تھیں۔ راہل گاندھی نے بھی خود کو امیٹھی سے الگ کر لیا تھا۔ اپوزیشن غائب تھی تو حکومت کے لیے اپنی ہی گیند پر چھکے مارنے کا کھلا میدان تھا۔ اب پرینکا کی فرنٹ لائن نے مقابلے کا ماحول بنا دیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمرتی ایرانی نے امیٹھی کو کافی وقت دیا ہے۔ بہت محنت بھی کی ہے۔ اسمرتی 2014 میں ہار گئیں لیکن پھر بھی وزیر بن گئیں۔ اس نے انہیں طاقت دی۔ جن امیدواروں نے امیٹھی میں وقتاً فوقتاً گاندھی خاندان کو چیلنج کیا اور شکست کھائی، ان میں وہ واحد خوش قسمت تھیں جو وزیر بنائی گئیں۔ اگلے پانچ سال تک اسمرتی امیٹھی کے بہانے راہل گاندھی اور ان کے خاندان پر حملے کرتی رہیں۔ راہل نے انہیں نظر انداز کیا اور عام طور پر لاتعلق رہے۔اس کے بعد 2019 کی شکست نے باقی کام مکمل کر لیا۔ راہل گاندھی نے خود کو امیٹھی سے دور رکھا اور اسمرتی نے الزامات کی بارش جاری رکھی۔ 2024 میں کانگریس کے امیدوار کو لے کر آخری لمحے تک سسپنس رہا اور پھر راہل یا پرینکا کو نہیں بلکہ کشوری لال شرما کو امیدوار بنائے جانے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اسمرتی کے لیے لڑائی آسان ہو جائے گی۔ لیکن پرینکا کے انتخابی مہم کے مرکز میں آنے کے بعد اسمرتی کے لیے چیلنج بڑھ گیا ہے۔
امیٹھی، سیلون، تلوئی اور گوری گنج کے تین اسمبلی حلقوں کے دورے کے دوران بہت سے لوگوں کو اسمرتی ایرانی اور ان کے نمائندے وجے گپتا کے خلاف شکایت کرتے ہوئے پایا۔ وہاں سخت مقابلے کی صورتحال نظر آرہی ہے۔ کم وقت میں کشوری لال شرما کے مقابلے میں آنے کی سب سے بڑی وجہ وہاں پرینکا کی موجودگی کو مانا جا رہا ہے۔ایرانی کے لئے راستہ آسان نہی شکلا انتخابی سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں پرینکا کی موجودگی سونے پر سہاگہ ہے جبکہ ایرانی منجدھار میں ہیں ان کی پارٹی کو لگ رہا ہے کہ راستہ پتھریلا ہے اگر کانگریس سیٹ جیتی تو تعجب نہیں ہوگا-









