امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ہفتے کے دوران دنیا کے سب سے اہم علاقائی تعلقات میں دراڑ ڈال دی ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل رفح پر حملہ کرتا ہے تو کیا ہو گا؟ امریکی صدر نے جواب دیا ’میں ہتھیار فراہم نہیں کروں گا۔‘
اسلحے کی ترسیل امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اتحاد کی بنیاد ہے مگر چار دہائیوں میں پہلی بار اس میں شگاف دیکھا گیا ہے۔
جو بائیڈن پر امریکہ اور دوسرے ممالک کی جانب سے مستقل دباؤ رہا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور بگڑتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے میں مدد کریں۔
آخر کار انھوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا، جو خطے میں امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق تجزیہ کار ایرون ڈیوڈ ملر کہتے ہیں کہ بلاشبہ جنگ کے آغاز سے جو بائیڈن، اسرائیل کی حامی ریپبلکن پارٹی اور اپنی انتہائی منقسم جماعت ڈیموکریٹک کے درمیان سیاسی تقسیم میں پھنس چکے ہیں۔
’جو بائیڈن ابھی تک ایسا کچھ بھی کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے رہے ہیں، جس سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو کوئی نقصان پہنچے۔‘
پیر کے روز اسرائیل نے کہا کہ اس کی افواج شہر کے مشرقی حصے میں ’ٹارگٹڈ کارروائیاں‘ شروع کرنے والی ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق انھوں نے مسلسل شیلنگ کی آوازیں سنیں جبکہ پہلے سے مشکلات کے شکار ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ سے بچنے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور انھیں رہائش، خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کئی بار رفح شہر پر حملے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جہاں تقریباً دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی آباد ہیں۔
نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہاں چھپی حماس کی بقایا چار بٹالین کو ختم کرنے کے لیے بڑے آپریشن کی ضرورت ہے اور یہ آپریشن جنگ بندی کے مذاکرات سے قطع نظر ہر صورت کیا جائے گا۔
واشنگٹن نے اسرائیل کو مبینہ طور پر ایسا آپریشن نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ڈیوڈ ملر کہتے ہیں کہ امریکی صدر کو ڈر ہے کہ رفح پر حملہ جنگ ختم کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے مواقع کو کم کر دے گا۔
ڈیوڈ ملر کے مطابق جو بائیڈن اسرائیل کے ہمسایہ ملک مصر کے ساتھ کشیدگی سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔
’یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ رفح پر حملے سے ڈیموکریٹک پارٹی میں تقسیم مزید بڑھے گی، لہذا امریکی صدر نے ایک سگنل بھیجا ہے۔‘
جو بائیڈن کے انٹرویو کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ایک کھیپ ’روک‘ دی، جس میں دو ہزار اور پانچ سو پاؤنڈ وزن کے بم تھے۔
امریکہ کی نتن یاہو کے ساتھ یہ ’بریک‘ بھی ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے، جب حماس کی حراست میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ بندی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
قاہرہ میں ہونے والے یہ مذاکرات اس ہفتے کے شروع میں بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گئے۔
اسرائیل کے کچھ مبصرین کے مطابق بائیڈن کے اس اقدام سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات پر اثر پڑے گا اور رفح پر اسرائیلی حملے کے خطرے کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش سے حماس کو فائدہ ہو گا تاہم ان مذاکرات کی دستیاب تفصیلات کی روشنی میں اس دعوے کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا مشکل ہے۔
اس سارے معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس کی جانب سے جنگ کے مستقل خاتمے کا مطالبہ ہے، جس کو اسرائیل مسترد کرتا ہے۔
جو بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان تعلقات پانچ دہائیوں سے ہیں، اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔
جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ جب یہ دونوں رہنما جوان تھے تو انھوں نے ایک تصویر پر دستخط کیے اور لکھا کہ ’بی بی، مجھے تم سے پیار ہے لیکن مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں، جو آپ نے کہنی ہے۔‘ یہ تصویر بعد میں نتن یاہو کی میز کی زینت بنی۔









