ایران کے صدر رئیسی ،وزیرخارجہ اور دیگر کئی شخصیات ہیلی کاپٹر حادثہ میں جاں بحق ہوگئیں خراب موسم کے باعث امدادی
کارکنوں کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں گھنٹوں جدوجہد کرنی پڑی۔ سرکاری طور پر حادثے کی ممکنہ وجہ بارش اور دھند کے ساتھ خراب موسم بتائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اسے ایران کے دشمن اسرائیل کی ‘سازش’ قرار دے رہے ہیں۔ سوالات اس لیے بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایران کھل کر حماس کی حمایت کر رہا تھا اور حال ہی میں ایران اور اسرائیل دونوں نے ایک دوسرے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
‘دو ہیلی کاپٹر بحفاظت واپس آگئے، صرف رئیسی کا ہیلی کاپٹر کیوں کریش ہوا؟’
سوشل میڈیا پر ایران کے کچھ لوگ رئیسی کی موت کے پیچھے سازش کی بات کر رہے ہیں۔ لوگ لکھ رہے ہیں کہ صدر کے قافلے میں تین ہیلی کاپٹر تھے تو یہ کیسے ہوا کہ دو ہیلی کاپٹر بحفاظت پہنچے اور صدر کا ہیلی کاپٹر ہی حادثے کا شکار ہو گیا۔’دی اکانومسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے ایرانیوں کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ یہ سازشی تھیوری اس لیے بھی سامنے آرہی ہے کیونکہ غزہ میں جاری اسرائیلی حملے کے درمیان ایران نے کچھ عرصہ قبل اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اسرائیل نے تب کہا تھا کہ ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپریل کے اوائل میں اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک فضائی حملہ کیا تھا جس میں ایرانی بریگیڈیئر جنرل محمد رضا جہادی مارا گیا تھا۔ جہادی ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے سینئر کمانڈر تھے۔ اب بہت سے ایرانی کہہ رہے ہیں کہ رئیسی کی موت کے پیچھے بھی اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ تاہم اسرائیل نے کبھی بھی ایران کے سربراہان مملکت کو نشانہ نہیں بنایا۔ رئیسی کے معاملے پر اسرائیل کی وضاحت بھی آ گئی ہے۔
اسرائیل نے کیا کہا؟
ادھر اسرائیل کا بیان بھی سازشی تھیوری کے حوالے سے آیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے واضح طور پر کہا کہ اس حادثے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔
ماہرین کیا کہہ رہے ہیں؟
ماہرین ایرانی صدر کی موت میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی تردید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے صدر کو قتل کرنے کا مطلب براہ راست جنگ کا اعلان کرنا ہے۔ اسرائیل نے ہمیشہ ایران کے فوجی اور جوہری افراد کو نشانہ بنایا ہے نہ کہ اعلیٰ سیاسی شخصیات کو۔
دی اکانومسٹ نے رپورٹ کیا، ‘رئیسی کی موت میں اسرائیلی ملوث ہونے سے انکار کرنے کی مضبوط وجوہات ہیں۔ اسرائیل نے کبھی بھی ایران کے سربراہ مملکت کو قتل کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ جنگ شروع کرنے کے مترادف ہو گا جس کا نتیجہ ایران کی طرف سے خوفناک ردعمل کی صورت میں نکلے گا۔رئیسی کا ہیلی کاپٹر اسرائیل کے ساتھ دوست ملک کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔
ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اتوار کو ایرانی صوبے آذربائیجان کے دارالحکومت تبریز جا رہا تھا کہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ حادثہ تبریز شہر سے 50 کلومیٹر دور ورجیکان شہر کے قریب پیش آیا۔
ٹائم میگزین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر جس جگہ گر کر تباہ ہوا اس کے حوالے سے بھی ایک سازشی تھیوری سامنے آ رہی ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا کہ رئیسی کا ہیلی کاپٹر آذربائیجان (ملک) کی سرحد کے قریب پہاڑی جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا۔ ایران کے تمام پڑوسیوں میں سے یہ آذربائیجان کے سب سے کم قریب ہے کیونکہ آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ بھی تعلقات ہیں موساد (اسرائیلی خفیہ ایجنسی) کے ساتھ تعاون کی
تاریخ بھی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تاہم ہیلی کاپٹر کے حادثے کے پیچھے موسم کی خرابی کا شبہ ہے۔ ایران نے کہا کہ حادثے کی جگہ کا پتہ لگانے کی کوششوں میں دھند، آندھی اور تیز بارش کی وجہ سے رکاوٹیں آئیں۔ ایران نے ریسکیورز کی فوٹیج بھی جاری کی ہے جو کہ دھند میں بھاگ رہے ہیں۔
امریکی سینیٹر چار شومر نے رئیسی کی موت کے پیچھے کسی سازش کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فی الحال امریکی خفیہ ایجنسیوں کو کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر اسے سازش کہا جا سکے۔ این بی سی نیوز کے مطابق شومر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شمال مغربی ایران میں جہاں حادثہ پیش آیا وہاں کا موسم بہت خراب تھا جس کی وجہ سے یہ حادثہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اس کی مکمل تحقیقات ہونا باقی ہیں۔









