ایرانی حکام نے ملک کے صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس حادثے میں صدر کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی وجوہات کا علم نہیں۔ انہوں نے حادثے میں واشنگٹن کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی صدر اور ان کے وزیر خارجہ کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو مار گرانے میں واشنگٹن کا کوئی کردار نہیں تھا۔ میں طیارے کے حادثے کی وجہ کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ہم ایرانی صدر کی موت کے بعد علاقائی سلامتی پر وسیع اثرات مرتب ہوتا نہیں دیکھ رہے۔ ایران نے ہم سے مدد کی درخواست کی۔ تاہم لاجسٹک وجوہات نے ہمیں اس سے روک دیا۔
دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس بیان میں کہا کہ ایران نے واشنگٹن سے ابراہیم رئیسی کو بچانے میں مدد کرنے کو کہا، لیکن لاجسٹک وجوہات کی بنا پر ہم ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی عوام اور انسانی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ رئیسی کی موت سے ایران کے بارے میں واشنگٹن کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہم ایرانی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت، خطرناک ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ایٹمی پروگرام میں اس کی پیشرفت کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
قبل ازیں امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار، جس نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا، نے کہا کہ ہیلی کاپٹر گرنے کا باعث بننے میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں تھی۔
سینئر اہلکار نے ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اطلاعات ہیں کہ بعض ایرانی حکام نے سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے بیانات کے حوالے سے امریکہ یا اسرائیل پر الزام لگانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ مضحکہ خیز ہے‘‘ ۔









