القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ میں "صیہونی فوج کو لالچ دے کر” سرنگ میں ڈالا اور "ہلاک، زخمی اور گرفتار کر لیا”۔ اسرائیلی فوج نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
ادھر حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ نئے مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی بات چیت سے اسرائیلی فوج کو غزہ میں جارحیت جاری رکھنے کے لیے مزید وقت ملتا ہے۔
دوسری طرف ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی کے خلاف بغاوت کا اعلان کرنے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرنے کی ویڈیونے اسرائیل میں تشویش کی ایک نئی لہردوڑا دی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ "میں نے کئی بار فوج میں نافرمانی کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے اور میں کسی بھی فریق کی طرف سے کسی بھی قسم کی نافرمانی کو واضح طور پر مسترد کرتا ہوں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ تمام حکومتیں بغاوت کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کریں گی”۔
"سپاہی کا اعلان بغاوت‘‘
ایک نقاب پوش اسرائیلی فوجی کا اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف اور اسرائیلی وزیر دفاع کے خلاف بغاوت کے مطالبے کا کلپ وائرل ہو رہا ہے۔
فوجی نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا کہ "ہم صرف وزیر اعظم کی بات سنیں گے، اسرائیلی فوج اور وزارت دفاع کے ترجمان نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔
"یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے”
فوجی نے ویڈیو میں اعلان کیاکہ "وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے۔ ہم، ریزروسٹ غزہ میں کسی فلسطینی اتھارٹی کو چابیاں دینے کو تیار نہیں‘‘۔
اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک لاکھ ریزرو فوجی آخری دم تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ غزہ کی پٹی کو حماس، فلسطینی اتھارٹی یا حتیٰ کہ کسی دوسری عرب قیادت کے حوالے کرنے کو قبول نہیں کرتے۔
وزیر اعظم کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کیا۔









