فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہےکہ اگر اسرائیل جنگ روکتا ہے تو اس سے مکمل معاہدے کے لیے تیار ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اس نے ثالث کاروں کو آگاہ کردیا ہےکہ اگر اسرائیل نے جارحیت جاری رکھی تو وہ مزید مذاکرات کا حصہ نہیں رہیں گے۔
تاہم حماس نے اس بات کو بھی واضح کردیا ہےکہ اگر اسرائیل جنگ کو روکتا ہے تو وہ یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے سمیت ایک مکمل معاہدے کے لیے تیار ہیں۔
ہم نے آج ثالث کاروں کو اپنی پوزیشن واضح کردی ہےکہ اسرائیل اپنا قبضہ، جنگ اور غزہ کے لوگوں کے خلاف جارحیت روکتا ہے تو ہم ایک مکمل معاہدے کے لیے تیار ہیں جو ایک جامع معاہدہ ہوگا۔
دریں اثنا غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 80 فیصد سے زیادہ اسکول اور تمام یونیورسٹیاں تباہ ہو گئیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 17 جنوری کو اسرائیلی بمباری سے غزہ میں بچنے والی آخری یونیورسٹی بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی جبکہ صیہونی بمباری میں غزہ کے 80 فیصد سے زائد اسکول تباہ ہوگئے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ پربمباری کرکے مزید 60 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے جبکہ جبالیہ پناہ گزیں کیمپ میں ملبے سے 20 بچوں سمیت 70 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ادھر رفح میں اسرائیلی فوج کے پے درپے حملوں سے کوئی علاقہ بھی محفوظ نہیں رہا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رفح کے گنجان آباد علاقوں میں حملے تیز کردیے ہیں اور اسی دوران پیش قدمی کرتے ہوئے ٹینک رہائشی عمارتوں پر گولہ باری کرتے رہے۔









