اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے کہا ہے جنگ بندی کے لیے پراسس شروع ہونے پر اسرائیل غزہ میں حماس کی حکمرانی کا تسلسل قبول نہیں کرے گا۔ اس لیے اس امر کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ غزہ میں حماس کے متبادل کے طور پر کسے حکمرانی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ‘ جب ہم اپنی اہم فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں تو اسرائیلی دفاعی اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ ساتھ حماس کی جگہ متبادل حکمرانی کے سوال پر بھی غور کر رہی ہے۔’
یوآو گیلنٹ نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے بعد کے منصوبے کے بارے میں مزید کہا ‘ہم غزہ کے مختلف حصوں کو آپس میں الگ تھلگ کر دیں گے ( کاٹ دیں گے) ، جہاں حماس کے کارکنوں کی عمل داری باقی نہ رہے گی بلکہ انہیں ان علاقوں سے نکال باہر کیا جائے گا۔’
انہوں نے مزید کہا حماس کی جگہ ایسی گروپوں کو آگے لایا جائے گا جو اسرائیل کے لیے نہیں حماس کے لیے خطرہ ثابت ہوں گے۔ ‘ تاہم اسرائیلی وزیر دفاع نے احتیاط کا مطاہرہ کیا اور ان متبادل گروپوں کا نام نہیں لیا نہیں حماس کی جگہ ایک سیاسی قوت بنا کر لایا جائے گا اور وہ مستقبل میں حماس کے لیے ایک خطرہ ثابت ہوں گے نہ کہ اسرائیل کے لیے۔
واضح رہے حما س نے غزہ میں اپنی سیاسی حریف اور فلسطینی اتھارٹی پر کنٹرول کی حامل ’’فتح‘‘ کو انتخابی عمل میں 2007 میں شکست دینے کے بعد باضابطہ ایک منتخب سیاسی قوت کے طور پر غزہ کی حکومت سنبھالی تھی۔
وزیر دفاع کے اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا ہے ‘اسرائیلی جنگی کارروائی اور غزہ میں متبادل سیاسی قیادت وحکومت کی تخلیق کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ جس کی غزہ میں حکمرانی ہو گی اور اسرائیلی یرغمالی رہا ہو سکیں گے۔’
اسی لیے یوآو گیلنٹ نے کہا ‘ ہم غزہ میں حماس کی حکمرانی جنگ بندی کے لیے جاری عمل کے دوران کبھی قبول نہیں کریں گے









