نئی دہلی:(آرکے بیورو)یہ کرونی کیپٹلزم کے خلاف مینڈیٹ ہے وہیں عوام نے نفرت اور تشدد کی سیاست کو مسترد کردیا ہے ہمارا ملک دس سال بعد کولیشن سیاست میں داخل ہورہا ہے اس لئے بی جے پی کے حلیفوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غلط پالیسیوں پر لگام لگائیں
ان خیالات کا اظہار امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے جماعت اسلامی کی ماہانہ پریس کانفرنس میں کیا۔ ۔انہوں نے اس بات کا شکوہ کیا کہ سیاسی جماعتوں خاص کر اپوزیشن پارٹیوں نے مسلم علاقوں میں سرد مہری دکھائی اور کہیں نظر نہیں آئیں -امیر جماعت نے کہا کہ عوام نے سرکاری ایجنسیوں کو یہ بھی پیغام دیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر کام کریں-انہیں نے سول سوسائٹی کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ ابھی ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ حکومت کے کانوں پر نظر رکھیں
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی پی اور جنتادل یو سے توقع ہے کہ وہ ایسا ایجنڈہ طے کریں گی جو سب کے لئے قابل قبول ہو یہ صرف بی جے پی کی حکومت نہیں ہے –
پریس کانفرنس میں موجود نائب امیر جماعت ملک معتصم خان نے اس سوال کے جواب میں کہ سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو کم ٹکٹ دئے ہیں ان کی نمائندگی لگاتار کم ہورہی ہے کہا کہ تعداد کی کوئی اہمیت نہیں ہے مظفرنگر فساد کے موقع پر یوپی اسمبلی میں 60مسلم ممبران تھے مگر وہ کیا کرسکے فساد چلتا رہا -انہوں نے کہا کہ مضبوط ممبروں کی ضرورت ہے جو آواز اٹھا سکیں۔
روزنامہ خبریں کے سوال پر کہ سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں کا نام لینے اور اسٹیج شئیر کرانے سے گریز کیا ۔ان سے کیا امید کی جائے امیر جماعت نے کہا کہ ہم یہ بات شدت سے محسوس کرتے ہیں ان کا رویہ قابل گرفت ہے لیکن سردست یہ مسئلہ چھیڑنے کی بجائے مخلوط حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے ۔لیکن ہم امید کرتے ہیں ان کے اس روئیے میں تبدیلی آئے گی ۔اب قیادت عوام کے ہاتھ میں اور سول سوسائٹی اپنا فرض نبھائے گی پریس کانفرنس میں۔ نائب امیر جماعت انجینئیر محمد سلیم اور میڈیا انچارج محمد سلمان بھی موجود تھے









