منی پور میں تشدد کو روکنے کے لیے مرکزی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے، اس کے باوجود گزشتہ ایک سال میں حالات معمول پر نہیں آئے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعلی این بیرن سنگھ کے سیکورٹی قافلے پر بھی حملہ ہوا تھا۔ آج تک کے مطابق جب وزیراعلیٰ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے شرم کی بات ہے کہ میری ہی ریاست میں میرے سیکورٹی قافلے پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات بری لگتی ہے۔
3 مئی 2023 کو منی پور میں دو کمیونٹی کے درمیان پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ کوکی اور میتی برادری کے بے گناہ افراد کی ایک بڑی تعداد تشدد کا نشانہ بنی، اگرچہ اب زیادہ تر علاقوں میں حالات معمول پر آچکے ہیں، لیکن اب بھی چھوٹے پرتشدد واقعات رونما ہورہے ہیں۔ حال ہی میں آسام کی سرحد سے متصل جیری بام علاقے میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے اور کئی خاندان وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ جب منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ واقعے کا جائزہ لینے کے لیے جانے کی تیاری کر رہے تھے تو ان کے حفاظتی قافلے پر جو ان سے پہلے پہنچ گیا تھا، گھات لگا کر حملہ کر دیا گیا۔ حملے کی تصویر پورے ملک نے دیکھی۔
ایک ایسی ریاست میں جہاں وزیر اعلیٰ کے حفاظتی قافلے پر دہشت گرد حملہ ہوا ہے، ریاست میں امن کی بحالی کے بارے میں اس حکومت کے تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان لگ آج تک کے نامہ نگار آشوتوش مشرا نے جب منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ سے صورتحال کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ منی پور میں پچھلے سال سے جو کچھ ہو رہا ہے، شروع میں صورتحال بہت سنگین تھی، لیکن مرکزی سیکورٹی فورسز کی آمد کے بعد اب یہ صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔ بہت کچھ آسان ہو گیا ہے۔” بہتری آئی ہے، اگرچہ اسے فوری طور پر روکنے میں وقت لگے گا، لیکن فائرنگ کے واقعات رک گئے ہیں، لیکن کچھ جگہوں پر اچانک چھوٹے چھوٹے تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔









