ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے دہلی، یوپی، ہریانہ اور پنجاب کے لیے گزشتہ ہفتے قومی دارالحکومت اور آس پاس کی ریاستوں میں پڑنے والی شدید گرمی کے درمیان ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ اتراکھنڈ، بہار اور جھارکھنڈ سمیت پورے شمالی ہندوستان میں درجہ حرارت 46 ڈگری سے اوپر جا رہا ہے۔ بہار میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید گرمی اور نمی کی وجہ سے 22 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ حالانکہ دہلی میں درجہ حرارت 46 ڈگری ہے لیکن یہ 50 ڈگری سیلسیس کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
دہلی میں اگلے چند دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا امکان ہے، جو جون کے عام درجہ حرارت سے 6 ڈگری زیادہ ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، پیر کو دہلی میں ہیٹ انڈیکس یا محسوس ہونے والا درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس تک بڑھ گیا تھا۔
پہاڑوں پر بھی گرمی کی لہر جاری ہے۔
اتراکھنڈ میں دہرادون میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جب کہ مسوری میں زیادہ سے زیادہ 43 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ یہاں تک کہ پوڑی اور نینی تال جیسے پہاڑی قصبوں میں بھی پچھلے تین مہینوں میں تھوڑی یا کم بارش کے بعد گرمی کی لہر کا سامنا ہے۔ پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں درجہ حرارت 44 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جو کہ اوسط سے 6.7 ڈگری زیادہ ہے۔ جموں و کشمیر کے کٹرا میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جب کہ جموں میں پارہ 44.3 ڈگری تک پہنچ گیا۔ یوپی کے پریاگ راج میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے سالوں تک ان دنوں پہاڑوں پر پری مون سون بارشیں ہوتی تھیں لیکن اس بار موسم بدل گیا ہے اور گرمی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بار گرمی نے گزشتہ 122 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس سے پہاڑی علاقے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
عالمی موسمیاتی تبدیلی گرمی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں درجہ حرارت میں اضافے کی خبریں آرہی ہیں۔ لندن میں بھی ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی بات کریں تو شمالی ہندوستان میں ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار ہے۔ ہر طرف موسم کے انداز میں تبدیلی آئی ہے، ال نینو بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ ال نینو کی صورت میں ہوائیں الٹی چلنا شروع ہوجاتی ہیں اور سمندروں کے پانی کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے جس سے دنیا کا موسم متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔









