تعلیم میں گھوٹالوں کے اس موسم کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے نالندہ یونیورسٹی میں شاندار تقریر کی۔ انہوں نے گھوٹالوں کا ذکر نہیں کیا لیکن اپنی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کی تعریف کی۔ مودی جی نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ملک کی نوجوان نسل کے تمام خوابوں کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کو علم کا مرکز بنانے کے اپنے مشن کا بھی انکشاف کیا۔
سوال یہ ہے کہ جب تعلیم کی حالت اتنی خراب ہے تو ہندوستان علم کا مرکز کیسے بنے گا؟ لاکھوں طلباء کا مستقبل صرف اس وجہ سے تباہ ہو سکتا ہے کہ وزارت تعلیم NEET امتحان کو صحیح طریقے سے منعقد نہیں کروا سکی ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے پہلے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پھر صحافیوں کو بلایا اور اعتراف کیا کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انکوائری کمیٹی بنا دی گئی جو تحقیقات کرے گی۔
انکوائری کمیٹی تو ٹھیک ہے لیکن آپ ان طلباء کا کیا کریں گے جن کا مستقبل آپ کی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی نااہلی کی وجہ سے خراب ہو گیا ہے؟ پیپر لیک ہونے سے امیدواروں کے ڈاکٹر بننے کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ طلباء کہہ رہے ہیں کہ انہیں این ٹی اے پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ پٹنہ اور گودھرا سے سوالیہ پرچوں کی خریداری کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو خبر نہیں ملی، ورنہ وہ کبھی یہ نہ کہتے کہ ہندوستان کو علم کا مرکز بنانا ان کا ‘مشن’ ہے۔ مقصد بہت اچھا ہے وزیر اعظم صاحب ، لیکن آپ ان گھوٹالوں کا کیا کرنے جا رہے ہیں؟ کیا NTA کی اصلاح ممکن ہے جب خرابی جڑوں تک پہنچ جائے؟ کیا اب کسی کو NEET امتحان پر بھروسہ ہوگا جب ہر سطح پر بدعنوانی اس قدر نظر آرہی ہے؟ مسئلہ اس حد تک ہے کہ ہندوستانی طلباء ڈاکٹر بننے کے لیے یوکرین جا رہے ہیں حالانکہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ نالندہ یونیورسٹی بلاشبہ زندہ ہوئی ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے لیکن جتنی جلدی وزیر اعظم قدیم دور سے آج تک آئیں گے، اتنا ہی ان کے لیے بہتر ہوگا۔









