غزّہ کی پٹّی پر جاری اسرائیلی حملوں میں 7 اکتوبر سے لے کر اب تک 21 ہزار کے قریب بچے لاپتہ ہو چکے ہیں۔
برطانیہ کی ‘سیو دی چلڈرن” نامی سول سوسائٹی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ غزّہ کے جنوبی شہر رفح پر اسرائیلی حملوں میں اضافے کی وجہ سے والدین سے بچھڑے ہوئے بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ان بچوں کی حفاظت کرنے والوں پر بھی دباو میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اندازاً 17 ہزار بچے اپنے والدین سے بچھڑنے یا پھر تن تنہا رہ جانے کے بعد لا پتہ ہو گئے ہیں۔ تقریباً 4 ہزار بچے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے، اجتماعی قبروں میں یا پھر بے نام قبروں میں دفن کر دئیے گئے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے زیرِ حراست بچوں کی تعداد کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہے بہت ممکن ہے کہ ان بچوں کو بیرونی ممالک میں بھیج دیا گیا ہو۔ اسرائیلی حملوں میں ملبے تلے دبے بچوں یا پھر خیموں میں جل کر شہید ہونے والے بچوں کی لاشیں مسخ ہو چکی ہیں جس وجہ سے ان کی شناخت دشوار ہو گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجتماعی قبروں میں دفن کئے گئے بچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات ملے ہیں۔ 9 جون سے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں 250 کے لگ بھگ بچے اسرائیل کی حراست میں لا پتہ ہو چکے ہیں۔ اکتوبر میں قیدیوں کے ساتھ ملاقات پر پابندی لگنےکے بعد سے ان بچوں کے والدین کو نہ تو یہ پتا ہے کہ ان کے بچے کہاں ہیں اور نہ ہی ان کی صحت و سلامتی کی کوئی خبر ہے۔










