نئی دہلی:
ملک کی موقر اور گراس روٹ لیول پر سرگرم تنظیم جماعت اسلامی ہند نے آخرکار آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سے علیحدگی اس معنی میں اختیار کرلی کہ اس کے اراکین نے مشاورت کی رکنیت سے استعفی دے دیااور اس طرح اس نے تذبذب کی صورتحال کو ختم کردیا مشاورت کی تاریخ میں جماعت کی طرف سے لیا گیا اس طرح کا یہ پہلا فیصلہ ہے -جماعت کے اعلیٰ ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے
جماعت اسلامی ہند کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور اس کی لیڈرشپ سے متعدد امور کو لےکر جماعت اسلامی ہند اپنے اختلاف اوربے اطمینانی کا اظہار کرتی رہی ہے اور ان کی وجہ سے مشاورت سے گزشتہ دیڑھ سال سے لا تعلق رہی ہے. اس دوران متعلق معاملات کی اصلاح کی کوشش بھی کرتی رہی ہے. اس دوران جب رجسٹرڈ مشاورت کا معاملہ سامنے آیا تو جماعت کی جانب سے مشاورت کے دونوں گروہوں کے درمیان افہام وتفہیم اور اتحاد کے لیے بھی کوششیں کی گئیں لیکن اصلاح احوال کی ان کوششوں کو خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے پختہ اور مصدقہ ذرائع نے آگے بتایا کہ اس صورت میں اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق جماعت ملت اور ملی پلیٹ فارمس میں کسی بھی قسم کے انتشار کا حصہ نہیں بن سکتی ہے اسلیے یہ طئے کیا گیا کہ فی الحال دونوں گروہوں سے تعلق نہ رکھتے ہوئے ہم غیر جانب دار رہیں گے اوراتحاد و اتفاق کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ اسی تناظر میں مسلم مجلس مشاورت میں موجود تمام ارکان جماعت اسلامی ہند، مشاورت کی رکنیت سے مستعفی ہورہے ہیں۔آگے کے مزید کسی قدم کے بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے –









