ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ 28 جون کو صدارتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ’ ٹرن آؤٹ’ ہونا چاہیے۔ منگل کے روز اس سلسلے میں انہوں نے کہا ہے کہ دشمن پر فتح پانے کے لیے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے جانا ضروری ہے۔
خامنہ ای نے اس امر کی مذمت بھی کی کہ بعض سیاستدان کہتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے سب اچھا ہی آتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں انہوں نے کسی خاص سیاست دان یا صدارتی امیدوار کا نام نہیں لیا ہے ہے۔ سپریم لیڈر کے ان ریمارکس سے 69 سالہ ہارٹ سرجن اور واحد امریکی اصطلاح میں اصلاح پسند امیدوار مسعود پیزشکیان کی امیدواریت پر اثر ضرور پڑ سکتا ہے۔
تام اس واحد اصلاح پسند امیدوار نے اپنی مہم کے دوران یہ مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو 2015 کے جوہری معاہدے کی طرف واپس آنا چاہیے اور مغربی دنیا میں اپنی رسائی کو بڑھانا چاہیے۔ وہ خود کو ایک ایرانی قوم پرست راہنما کے طور پر عوام کے سامنے آئے ہیں۔
علی خامنہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ‘ کوئی شخص جو ایرانی انقلاب کو تھوڑا سا بھی مخالف ہو اور ہمارے اسلامی نظام کا مخالف ہے وہ ایران اور ایرانی عوام کے لیے مفید نہیں ہو سکتا ہے۔’ نہ ہی کوئی ایسا فرد جو امریکہ کے ساتھ جڑا ہوا ہو اور یہ سوچتا ہوا کہ امریکہ کے بغیر ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا ہے۔ ایسا شخص آپ عوام کے لیے کام کا نہیں ہو سکتا ہے۔’
علی خامنہ ای سپریم لیڈر ایران کی اس تقریر کے دوران مجمعے کی طرف سے اونچی آواز میں’ مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل کے نعرے گونجتے رہے۔ واضح رہے وہ شیعہ تہوار یوم غدیر کے موقع پر عوام سے خطاب کر رہے تھے۔
85 سالہ سپریم لیڈر کو اپنی تقریر کے دوران سامعین کے بہت بڑے ہجوم کو کئی بار کہنا پڑا کہ وہ خاموشی سے سنے۔ ایران میں نیا صدارتی انتخاب ماہ مئی میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے کے بعد 28 جون کو متوقع ہے۔ اس سے پہلے پارلیمانی انتخابات میں چونکہ ووٹوں کی شرح کم رہی ہے اس لیے سپریم لیڈر کو عوام سے اپیل کرنا پڑی ہے کہ ووٹ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈالنے کے لیے نکلیں۔









