نئی دہلی:لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے راہل گاندھی نے اپنی پہلی تقریر میں اوم برلا کو ایوان کے اسپیکر کی شکل میں پھر سے منتخب کیے جانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک پرُزور انداز میں اپنی بات رکھی ۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کو دوسری بار منتخب ہونے کے لیے مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو پورے اپوزیشن اور انڈیا بلاک کی طرف سے مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ یہ ایوان ہندوستان کے لوگوں کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے اور آپ اس آواز کے آخری فیصلہ ساز ہیں۔
راہل نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس سیاسی طاقت ہے، لیکن اپوزیشن بھی ہندوستان کے لوگوں کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے اور اس بار اپوزیشن نے گزشتہ بار کے مقابلے میں ہندوستانی عوام کی آواز کی بہت زیادہ نمائندگی کی ہے۔ اپوزیشن آپ کے کام میں آپ کی مدد کرنا چاہے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایوان اچھی طرح کام کرے۔ یہ بہت اہم ہے کہ تعاون بھروسہ کی بنیاد پر ہو۔ یہ بہت اہم ہے کہ اپوزیشن کی آواز کو اس ایوان میں نمائندگی کرنے کی اجازت دی جائے۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ ایوان کتنی کامیابی سے چلتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی کتنی آوازیں یہاں سنی جائیں گی۔ اگر آپ اپوزیشن کی آواز کو خاموش کر کے ایوان کو چلاتے ہیں تو یہ غیر جمہوری ہوگا۔ ملک کےعوام امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن آئین کی حفاظت کرے۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ اپوزیشن کو عوام کی آواز اٹھانے کی اجازت دے کر آپ آئین کی حفاظت کا فریضہ نبھائیں گے۔
خاص بات یہ ہے کہ راہل کو بہت دنوں کے بعد ٹی شرٹ کے بغیر دیکھا گیا ۔وہ کرتا پاجامہ میں نظر آئے اور بہت سنجیدگی کے بعد اپنی بات رکھی ۔راہل اور مودی نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا-









