تحریر:زبیر خاں
دربھنگہ میں………. نامی ایک ٹریول ایجنٹ نے 99 روپیہ میں لکی ڈرا کے ذریعے رمضان میں عمرہ کرانے کا اعلان کیا ہے-
پہلے یہ شخص ہزاروں لوگوں سے اور کوئی بعید نہیں کہ لاکھوں لوگوں سے 99، 99 روپیے وصولے گا اور بعد میں کچھ لوگوں کو رمضان میں عمرے پر بھیج دے گا
میں اس کا نام لکھ کر اس کی تشہیر کرنے کا گناہ نہیں کرنا چاہتا-
لیکن بھارت کی کثیر آبادی جو حنفی ہے انہیں دارالعلوم کے فتوے کے روشنی میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ لکی ڈرا شرعاً ناجائز ہے اور حج اور عمرہ جیسی عبادت کے لیے تو اور بھی بڑا ناجائز ہےدراصل یہ بیع فاسد ہے اور قرآن مجید سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 کے مطابق یہ سب شیطانی عمل ہیں
لہذا اپنی عبادتوں کو اس طرح برباد نہ کریں اور جب حیثیت ہو تبھی حج اور عمرے کا ارادہ کریں
لکی ڈرا کی ایک جائز شکل بھی ہے، جو بیع فاسد نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ ایک ادارہ اپنے متعلقین، ملازمین یا کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی اسکیم نکالے، جس میں بنا کسی اضافی رجسٹریشن فیس کے محض قرعہ اندازی کے ذریعے کچھ خوش نصیبوں کو منتخب کرے اور انہیں انعام کے طور پر کچھ عنایت کرے یا عمرے کے بھجوائے- یہ شکل جائز اور پسندیدہ ہے-
لیکن جہاں رجسٹریشن فیس کے نام پر کوپن کی فروخت ہو رہی ہو، لاکھوں کوپن کروڑوں روپیوں میں بیچے جا رہے ہوں اور اس کے بعد کمپنی دو چار دس لوگوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے کچھ انعام دے رہی ہو تو یہ شکل بہ ہر صورت ناجائز ہے-
اہل سنت و الجماعت کی مشہور کتابِ حدیث جسے حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ نے جمع کیا ہے، کتاب کا نام ہے ‘مصنَّف ابن ابی شیبہ’ ، اس میں صاف لکھا ہے:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر.”
(كتاب البيوع والأقضية، ج:12، ص:336، ط: دار كنوز إشبيليا الرياض – السعودية)
اور قمار کی وضاحت فتاوی شامی میں اس طرح کی گئی ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي.”
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:403، ط: سعید)
اور اس میں آگے لکھاہوا ہے:
"وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة۔۔۔(خال عن عوض بمعيار شرعي) مشروط لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر فلو شرط لغيرهما فليس بربا بل بيعا فاسدا (في المعاوضة).”
(کتاب البیوع ،باب الربا ج:5، ص :168، ط:سعید)
باقی آپ سب سمجھدار ہیں
99 کے پھیر میں پھنسیں یا نہ پھنسیں آپ کی مرضی (زبیر خاں کی فیس بک وال سے )









