بھوپال:بی جے پی کی فائر برانڈ لیڈر اور مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کارکردگی کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ اوما بھارتی نے ہفتہ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے لئے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے۔
سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھی ریاست میں پارٹی کی کارکردگی خراب رہی۔ اس لوک سبھا الیکشن میں بھگوا پارٹی کو یوپی میں 80 لوک سبھا سیٹوں میں سے صرف 33 سیٹیں ملی ہیں۔
یہاں میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اوما بھارتی نے کہا، ”اتر پردیش میں لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے لیے مودی اور یوگی کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری ڈھانچہ گرائے جانے کے بعد بھی بی جے پی ہار گئی تھی۔ اس کے باوجود ہم نے ایودھیا میں رام مندر کو اپنے ایجنڈے سے نہیں ہٹایا… ہم نے کبھی ایودھیا کو ووٹوں سے نہیں جوڑا۔ اسی طرح اب ہم متھرا-کاشی (مذہبی مقامات کے تنازعات) کو بھی ووٹوں سے نہیں جوڑ رہے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ہندو برادری کی نوعیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو سماجی نظام کو مذہب سے نہیں جوڑتی۔
بی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا، ”یہ اسلامی معاشرہ ہے جو سماجی اور مذہبی نظام کو متحد کرکے کام کرتا ہے۔ اس لیے وہ سماجی نظام کے مطابق ووٹ دیتے ہیں۔بھارتی نے مزید کہا کہ اتر پردیش کے نتائج کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بھگوان رام کے تئیں لوگوں کی عقیدت کم ہو گئی ہے۔









