گذشتہ ہفتے کے صدارتی مباحثے کے دوران موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کی کارکردگی کے اثرات ابھی تک مرتب ہو رہے ہیں۔
سی این این نے بتایا کیا ہے کہ اگرچہ صدر جو بائیڈن کو ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے۔ ٹرمپ کے خلاف صدارتی الیکشن میں ان کے امیدوار بننے کی بھی حمایت کی جا رہی ہے تاہم پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے ان کے دوسری مرتبہ صدر بننے کے امکان کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر دیا ہے۔
ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سینئر ڈیموکریٹک رہنماؤں اور بائیڈن کے مشیروں نے اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ وہ شکاگو میں 19 اور 22 اگست کے درمیان ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں ایک بے مثال تصادم کا سامنا کرنے پر مجبور ہونے کی صورت میں کیسے کام کریں۔ انہوں نے پہلے ہی بائیڈن کے ممکنہ حریفوں کی نقل و حرکت کی احتیاط سے نگرانی شروع کر دی ہے۔ ان سے آگے نکلنے یا ان کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے مواقع تلاش کرنا شروع کر دئیے ہیں۔
مشی گن کی خاتون گورنر گریچن وائٹمر نے اپنی سیاسی ایکشن کمیٹی کے انعقاد کے بعد بہت سے لوگوں کی توجہ مبذول کرائی اور فنڈ ریزنگ اپیل کی۔ یہ کال ان کے ایجنڈے کے لیے ایک اہم بیان کی طرح لگ رہی تھی۔ خاص طور پر جب سے انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ وہ گورنر شپ جیت چکی ہیں۔
بائیڈن کے قریبی عطیہ دہندگان کے علاوہ 20 سے زیادہ نمایاں ڈیموکریٹک عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کے وقت تمام ممکنہ منظرناموں کے بارے میں تشویش پائی جارہی ہے۔ چاہے بائیڈن کی نامزدگی کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ یا ان کی نائب کملا ہیرس کی نامزدگی ہو یا کسی اور کا انتخاب ہو۔
کیٹگری فائیو کا سمندری طوفان
ان میں سے کچھ نے یہ بھی کہا کہ اس کا مطلب ہے متعدد ووٹنگ کے عمل سے بھری لمبی راتیں امریکی ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بہت سی نظریاتی اور ذاتی دشمنیوں کو ظاہر کر دیں گی۔ ایک ممتاز ڈیموکریٹک عہدیدار شکاگو کنونشن کے دوران تصادم کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ انہوں نے اس صورت حال کو کیٹگری فائیو کا سمندری طوفان قرار دیا ہے۔
بڑا مخمصہ
مبصرین نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس اس وقت ایک بڑی مخمصے کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ اس صورت حال کے مناسب حل پر متفق نہیں ہو سکتے۔ وائٹ ہاؤس کے لیے بائیڈن کا مسلسل مقابلہ ان کی عمر اور صحت کی حالت کی وجہ سے خدشات پیدا کر رہا ہے۔ کملا ہیرس کے علاوہ کسی اور امیدوار کا انتخاب پارٹی کے اندر تقسیم کا باعث بن سکتا ہے۔
خیال رہے بائیڈن کی امیدواری کے حوالے سے اس وجہ سے شکوک پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ جمعرات کی رات ٹرمپ کے خلاف مباحثہ کے دوران ان کی کارکردگی کو خراب قرار دیا گیا تھا۔









