لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا جس میں ان کی تقریر سے ہٹائے گئے تبصروں اور اقتباسات کو لے کر۔ کمنٹس کو بحال کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے لکھا، "میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ جس طرح سے میری تقریر کا کافی حصہ اخراج کی آڑ میں کارروائی سے خارج کر دیا گیا ہے… میرے نیک نیتی کے تبصروں کو ریکارڈ سے خارج کرنا پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔”

راہل گاندھی نے کہا، ‘پی ایم مودی کی دنیا میں سچ مٹایا جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں سچ کو نہیں مٹایا جا سکتا۔ میں نے جو بھی کہا اور جو کہنا تھا کہہ دیا، وہی سچ ہے، اب وہ جسے مٹانا چاہیں مٹا دیں۔
واضح ہو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اچھٹے روز اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی پر جم کر حملہ کیاتھا ۔ راہل گاندھی کا یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ پی ایم مودی سے لے کر وزیر داخلہ امت شاہ تک احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ان تمام موضوعات پر بی جے پی کو نشانہ بنایا جن کا وہ پارلیمنٹ کے باہر تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے ہندو مذہب سے لے کر حکومت کی پالیسوں تک، منی پور سے لے کر کشمیر تک حکومت کے طریقۂ کار پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ کو ہندو کہنے والے کچھ لوگ دن بھر تشدد میں ملوث رہتے ہیں۔ اس پر بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے ہندوؤں کو تشدد سے جوڑنے کے معاملے قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کر دیا۔ بی جے پی ارکان نے کہا کہ یہ ہندو سماج کی توہین ہے۔ اسے ہندو سماج کی توہین قرار دینے کے لیے خود پی ایم مودی کھڑے ہوئے، جس پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہندو کا مطلب صرف بی جے پی اور آر ایس ایس ہی نہیں ہوتا۔









