نئی دہلی:دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر تشار ڈیڈھا فرضی مارک شیٹ معاملے میں مشکل میں دکھائی دے رہے ہیں۔ این ایس یو آئی نے ان پر یہ الزام لگایا ہے۔ روہتک کے ایم پی دیپیندر ہڈا نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور تشار ڈیڈھا کو صدر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج تک کے مطابق انہوں نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا، ‘یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ اے بی وی پی نے بہت بڑا دھوکہ دہی کرکے صدر کا عہدہ حاصل کیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (DUSU) کے صدر کو فوری اثر سے عہدے سے ہٹا دیا جائے! نہیں تو ہم عدلیہ کے پاس جائیں گے۔
٭این ایس یو آئی نے مارک شیٹس کی تصویریں پوسٹ کیں۔
درحقیقت جمعہ کو یہ بات سامنے آئی کہ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر تشار ڈیڑا نے ایک ہی سال میں یوپی بورڈ اور سی بی ایس ای دونوں سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا ہے۔ ان کے دونوں بورڈز کی مارک شیٹس بھی سامنے آچکی ہیں، جن میں سال 2016 درج ہے۔ کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی نے حال ہی میں ایکس پر سرٹیفکیٹس کی تصویریں پوسٹ کیں اور اے بی وی پی کے ڈی یو ایس یو کے صدر تشار ڈیڈھا پر دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے فرضی سرٹیفکیٹس کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔
ابھے دہیا (ڈی یو ایس یو کے نائب صدر) نے ڈی یو ایس یو کے صدر تشار ڈیڈھا کے خلاف جعلی مارک شیٹ بنا کر ڈی یو میں داخلہ لینے کی شکایت درج کرائی ہے۔ این ایس یو آئی ڈی یو ایس یو کے نائب صدر ابھے دہیا نے ایکس پر پوسٹ کرکے اس مسئلہ کو اٹھایا ہے۔ انہوں نے لکھا، ‘دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کا بڑا گھپلہ بے نقاب، انتخابات میں دھاندلی! جعلی دستاویزات! انہوں نے لکھا کہ اے بی وی پی کے صدارتی امیدوار تشار ڈیڈھا الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں تھے۔ اب ABVP کے DUSU صدر کو ہٹا دیں۔ انہوں نے لکھا کہ یہ طلبہ کے مینڈیٹ پر سنگین حملہ ہے۔ یہ ڈی یو کے جمہوری نظام پر حملہ ہے۔ ہم فراڈ کرنے والے DUSU کے صدر تشار ڈیڈھا کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ادھر ڈیڈھا نے اس الزام کو فرضی بتایا ہے









