تحریر:مولانا غفران ساجد قاسمی
“تعلیم کا معیار اتنا گرگیا ہے کہ اب تو بس نوٹس سے ہی کام چلایا جا رہا ہے”:مولانا واجدی
گذشتہ دنوں دیوبند کے سفر کے دوران جماعت دیوبند کے معروف عالم دین، عربی اردو زبان کے ادیب،،مصنف، مولانا ندیم الواجدی سے ایک مختصر مگر یادگار ملاقات رہی، مولانا کی شخصیت اتنی معروف ہے کہ جس نے دیوبند نہ بھی دیکھا ہوگا وہ مولانا کے نام سے ضرور واقف ہوگا، گوکہ مولانا کی عمومی شناخت کتابوں کی نشرواشاعت اور تجارت سے ہے، لیکن مولانا کی اصل شناخت ان کا علمی فیضان ہے، ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی میں دارالعلوم کے بہت سارے طلبہ کو دیکھا کہ وہ مولانا ندیم الواجدی کے پاس اپنے مضامین کی اصلاح کے لیے جایا کرتے تھے، اور مولانا انتہائی شفقت و محبت سے ان کے مضامین کی اصلاح فرمایا کرتے تھے، ہم لوگوں کے زمانے میں ہی مولانا نے ترجمان دیوبند کے نام سے معیاری ماہنامہ رسالہ جاری کیا جس نے بہت کم وقت میں علمی اور ادبی حلقوں میں اپنی الگ شناخت بنائی، آج بھی مولانا کے مضامین بہت شوق سے پڑھے جاتے ہیں، الحمداللہ زمانہ طالب علمی سے ہی مجھے مولانا سے قربت رہی ہے اور آج بھی جب کبھی بھی دیوبند کا سفر ہوتا ہے تو کچھ دیر کے لیے ہی سہی مولانا کے مکتبہ دارالکتاب میں حاضر ہوکر ملاقات کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور استفادہ کرتا ہوں..
گذشتہ دنوں جب دیوبند جانا ہوا تو حسب معمول مولانا سے ملاقات کے لئے مکتبہ میں حاضر ہوا، مغرب کے بعد کا وقت تھا، کچھ طلبہ کتابیں خریدنے کے لیے مکتبہ میں کھڑے تھے، خبر خیریت کے بعد میں نے مولانا سے ایک سوال پوچھا، میرا سوال تھا کہ آپ ایک طویل عرصے سے کتابوں کی تجارت کررہے ہیں، کتابوں کی تجارت کا بڑا طویل تجربہ رکھتے ہیں، آپ اس زمانے سے کتابیں شائع کررہے ہیں اور فروخت کررہے ہیں جس زمانے میں سوشل میڈیا اور پی ڈی ایف کلچر نہیں تھا اور اب تو سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے، پی ڈی ایف کلچر کا جال بچھا ہوا ہے، ایسے ماحول میں پہلے کی بہ نسبت اب کس طرح کی کتابوں کی جانب طلبہ کا رجوع ہے، یعنی طلبہ اب کس طرح کی کتابوں کا مطالعہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
میرے اس سوال کے جواب میں پہلے تو مولانا نے ایک لمبی سانس لی، پھر بہت ہی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب مطالعہ کا ذوق تو بالکل ختم ہوچکا ہے، فکری کتابوں کی جانب طلبہ کا بالکل بھی رجوع نہیں ہے، ایک وقت تھا کہ طلبہ درسیات کے ساتھ عربی شروحات خوب خریدتے تھے، عربی شروحات کے مطالعے کا بہت ذوق تھا، لیکن اب حال یہ ہے کہ عربی شروحات پڑھنے والے تو بالکل عنقا ہوچکے ہیں، گذشتہ چند سالوں تک اردو شروحات پڑھنے والوں کی بھی اچھی تعداد تھی، لیکن اب پڑھنے پڑھانے کا معیار اتنا گرچکا ہے اور مطالعے کا ذوق ایسا ختم ہوچکا ہے کہ اب تو طلبہ صرف نوٹس سے کام چلا رہے ہیں، امتحان کی رات میں متعلقہ کتاب کا نوٹس خرید لیا، رات بھر تیاری کی، صبح امتحان دیےدیا، کام ختم،.. مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت دیوبند میں کتابوں کی تجارت کا دور ختم ہوچکا ہے، اب ہمارے بہت سے ساتھی کتابوں کی تجارت بند کرکے ہوٹل کھول رہے ہیں، مولانا نے بتایا کہ ایک صاحب نے کتابوں کی تجارت ختم کرکے ہوٹل کھولا، ایک سال میں انہوں نے ایک ہوٹل سے تین ہوٹل بنالئے، پھر بھی امید باقی ہے اور امید پر ہی دنیا قائم ہے، انشاءاللہ وہ دور لوٹے گا کہ لوگ پھر سے کتابوں کی جانب رجوع کریں گے…
باتوں باتوں میں مولانا واجدی نے کہا کہ یہ بھی بڑا المیہ ہے کہ اس وقت دارالعلوم میں کوئی ایسا شخص (یعنی استاذ) نہیں ہے جس سے اہم علمی معاملات میں رجوع کیا جا سکے..
مولانا ندیم الواجدی صاحب کی یہ گفتگو سن کر واقعی بہت افسوس ہوا، یہ ہم سبھوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے..
(گفتگو پر مبنی)۔









