برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے زور دے کر کہا ہےکہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حوالے سے متوازن موقف اختیار کرنا چاہتا ہے اور جنگ بندی اور حماس کے ہاں قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششیں بروئے کار لائے گا۔
خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق لیمی نے ہفتے کے روز برلن میں ایک انٹرویو میں کہا کہ "یہ وقت برطانیہ کے لیے بیرونی دنیا کے ساتھ دوبارہ رابطہ کرنے کا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ "میں اسرائیل اور غزہ پر متوازن موقف اختیار کرنے کی طرف واپس آنا چاہتا ہوں۔ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم جنگ بندی دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم ان یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں”۔
لڑائی بند، غزہ میں امداد کی فراہمی
انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیرکہا کہ "لڑائی بند ہونی چاہیے اورغزہ میں امداد داخل ہونی چاہیے۔ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاؤں گا”۔
لیمی نے کہا کہ برطانیہ کلیدی تعلقات کے علاوہ یورپی طاقتوں اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرے گا۔ اس کے ساتھ موسمیاتی بحران سمیت بعض مسائل پر اپنی عالمی پوزیشن کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کرے گا۔برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ "آئیے بریکسٹ کے سالوں کو اپنے پیچھے رکھیں۔ بہت سی چیزیں ہیں جو ہم مل کر کر سکتے ہیں”۔









