نئی دہلی:سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ یہ واضح ہے کہ نیٹ NEET کا پیپر لیک ہو ا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر NEET پیپر لیک کی سوشل میڈیا پر تشہیر ہوئی ہے تو دوبارہ امتحان کا حکم دیا جانا چاہئے۔ عدالت نے کہا، ‘اگر ہم مجرموں کی شناخت کرنے میں ناکام رہے تو دوبارہ جانچ کا حکم دینا پڑے گا۔ امتحان کا تقدس پامال ہوا تو دوبارہ امتحان کا حکم دینا ہو گا۔
چیف جسٹس چندرچوڑ کی قیادت والی تین ججوں کی بنچ NEET کی درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ بہت سے طلباء اور کوچنگ اداروں نے NEET UG 2024 کے نتائج کے خلاف درخواستیں دائر کی ہیں۔ درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے کہا کہ وہ پیپر لیک، او ایم آر شیٹس میں ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی جیسی بنیادوں پر امتحان کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے NEET UG 2024 کے دوبارہ انعقاد سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اس کی مکمل منسوخی سے اس سال 5 مئی کو امتحان دینے والے لاکھوں ایماندار امیدواروں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ وزارت تعلیم نے جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں صرف اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ NEET UG کے انعقاد کے دوران بے ضابطگیوں، دھوکہ دہی، بدعنوانی کے واقعات پائے گئے تھے۔ تاہم پیپر لیک ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
حلف نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘آل انڈیا امتحان میں کسی بھی بڑے پیمانے پر رازداری کی خلاف ورزی کے ثبوت کی عدم موجودگی میں، پورے امتحان کو منسوخ کرنا منطقی نہیں ہوگا۔ …امتحان کی مکمل منسوخی سے 2024 میں سوالیہ پرچہ دینے والے لاکھوں ایماندار امیدواروں کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔’









