جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں پیر کو دہشت گردوں اور فوج کے جوانوں کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ اس واقعے میں فوج کے 4 جوان شہید اور 6 زخمی ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کا کٹھوعہ ضلع پنجاب کے پٹھانکوٹ ضلع سے متصل ہے۔ اس پورے واقعے پر فوج کے ذرائع نے کہا ہے کہ پہلا حملہ دہشت گردوں نے کیا اور فوجیوں کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی۔ فوجی حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ کٹھوعہ شہر سے 150 کلومیٹر دور لوہائی ملہار کے بدنوٹا گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب فوج کی کچھ گاڑیاں علاقے میں معمول کی گشت پر تھیں جب دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ رواتی حملے کے بعد دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا اور پھر فائرنگ شروع کردی۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی تاہم دہشت گرد قریبی جنگل میں فرار ہوگئے۔
فوج کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
دہشت گرد حملے کے بعد فوج کی جانب سے پورے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے تمام مشتبہ ٹھکانوں پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جموں کے کٹھوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں دہشت گردوں کی طرف سے مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے کولگام میں دو مقامات پر ایک تصادم میں سیکورٹی فورسز نے چھ دہشت گردوں کو مار گرایا۔ مارے گئے دہشت گردوں کے ٹھکانے سے متعلق ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک گھر میں الماری کے اندر خفیہ ٹھکانا بنا رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں صرف کلنام میں حزبول کے چھ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ دو فوجی بھی شہید ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ مقامی لوگ مارے گئے دہشت گردوں کی مدد کر رہے تھے۔ اب اس حوالے سے بھی تفتیش جاری ہے۔
9 جون کو جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں دہشت گردوں نے شام کے وقت تیرتھ یاتریوں کو لے جانے والی بس پر فائرنگ کی۔ جس کی وجہ سے بس کھائی میں گر گئی۔ دہشت گردوں کی فائرنگ اور بس کھائی میں گرنے سے 9 افراد ہلاک جب کہ 41 زخمی ہوگئے۔ بس میں موجود یاتری چیختے رہے۔ اس کے باوجود دہشت گرد چھوٹے بچوں اور دیگر زائرین پر بے رحمانہ فائرنگ کرتے رہے۔ دہشت گردوں نے شیو کھودی سے واپس آنے والے زائرین پر 100 سے زیادہ گولیاں چلائیں۔ اس حملے نے سب کو بے چین کر دیا۔









