جموں پولیس نے کہا کہ جموں کے مضافات میں ایک مندر میں توڑ پھوڑ کرنے والے ملزم کو واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس شخص نے مندر میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کا ذمہ دار ہونے کا دعویٰ کیا کہ اس نے ہفتہ کی رات مندر میں "کمیونٹی کے کچھ افراد کی طرف سے کالے جادو کرائے جانے پر پریشان” ہونے کے بعد یہ حرکت کی۔ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کی معلومات ٹوئٹر پر شیئر کیں تاہم یہ نہیں بتایا کہ ملزم کا تعلق کس فرقہ سے ہے۔ ملک کی معروف خبر رساں ایجنسی نے واقعے کی معلومات دیتے ہوئے یہ بھی نہیں بتایا کہ مندر میں توڑ پھوڑ کرنے والا شخص کس کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن مقامی میڈیا نے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ برجیش شرما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ہفتہ کی رات نارائن کھو علاقہ میں ایک مندر میں مورتیوں کی بے حرمتی اور برتنوں کو جلانے کی شکایت کے بعد نگروٹا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ایس پی نے کہا، "ایف ایس ایل اور کرائم برانچ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے فوری طور پر سونگھنے والے کتوں کے ساتھ واقعے کی تحقیقات کی۔ تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ "تفتیش کے بعد ارجن شرما کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔”
پولیس افسر کے مطابق ارجن شرما نے واقعے میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کی بروقت گرفتاری سے علاقے میں کشیدگی سے بچا گیا۔ ہم لوگوں کے ان کے مثبت کردار اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو تفتیش کرنے کی اجازت دینے کے لیے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم نے اکیلے ہی یہ حرکت کی ہے۔
مرکزی ملزم ارجن شرما نے پولیس کو بتایا کہ ہندو برادری کے کچھ لوگ اس مندر میں کالا جادو کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ بہت ناراض تھا۔ ‘نمبردار’ اور گاؤں کے دوسرے بااثر لوگوں نے اس کی شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی۔ پھر اس نے یہ قدم اٹھایا۔
اس سے قبل 29 جون کو ریاسی کے دھرماری علاقے میں بھی ایک شیو مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی جس سے کشیدگی پھیل گئی تھی۔ ہندو اور مسلم لوگوں نے مل کر مندر کی توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاج کیا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے کے پانچ دن بعد جموں و کشمیر پولیس نے 43 افراد کو گرفتار کیا۔









