دہلی (آر کے بیورو )آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے طلاق یافتہ بیوی کو بھتہ ادا کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔بورڈ نے یہ اعلان اتوار کو پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس میں بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کی طرف سے آج یہاں منظور کی گئی قراردادوں کے بعد کیا۔
میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرS.Q.R الیاس نے کہا کہ بورڈ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے "ہر ممکن قانونی، آئینی اور جمہوری اقدامات ” کرے گا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سخت استثنیٰ لیتے ہوئے کہ مسلمان مرد طلاق کے بعد اپنی سابقہ بیویوں کو کفالت فراہم کرتے رہیں، ڈاکٹر۔ الیاس نے اس فیصلے کو اسلامی قوانین اور اصولوں کے منافی قرار دیا۔:
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بورڈ کی مجلس عاملہ کی ممبر پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کی دیکھ بھال کے تقاضے طلاق یافتہ عورت کے وقار سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ ’’ایک مرد کو صرف حقوق نسواں کے نام پر ایک ایسی عورت پر کفالت کی ادائیگی کا دوہرا بوجھ کیوں اٹھانا چاہیے جو اب اس کے خاندان کا حصہ نہیں ہے؟‘‘ انہوں نے خواتین کی دیکھ بھال کے قوانین کا مبینہ طور پر استحصال کرنے کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال کیا۔
ڈاکٹر الیاس نے طویل عدالتی لڑائیوں کے متبادل کے طور پر مسلمانوں کو خاندانی تنازعات کو حل کرنے کے لیے دارالقضا، اسلامی ثالثی مراکز کو استعمال کرنے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، بورڈ کے سکریٹری مولانا احمد فیصل رحمانی نے اتراکھنڈ کے UCC کو گھریلو مسائل کو حل کرنے کے بجائے خاندانی ڈھانچے کے لیے ممکنہ طور پر تباہ کن قرار دیا۔ انہوں نے کوڈ کےتضادات کی بھی نشاندہی کی، اس میں قبائلی برادریوں جیسے مخصوص گروہوں کے استثنی کا تذکرہ کیا ۔
ادھر ڈاکٹر الیاس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے "ایک قوم، ایک قانون” کے تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تنوع اس طرح کی یکسانیت کو ناقابل عمل بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں موجودہ قوانین میں بھی یکسانیت نہیں ہے۔
دریں اثنا پریس کانفرنس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے جمعیت علما ئے ہند (ارشد مدنی )کے دہلی دفتر میں منعقد اجلاس کے دوران یو سی سی اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ اوقاف ،ماب لنچنگ سمیت کئی اہم موضوعات پر گفت شنید کی گئی اور متعدد قراردادادوں کو منظور کیا گیا۔ اجلاس میں عاملہ کے زیادہ تر ممبران موجود تھے –
خیال رہے کہ اتراکھنڈ اسمبلی سے یونیفارم سول کوڈ کو منظور کر لیا گیا ہے، جس کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے ایک قرارداد منظور کی گئی اور کہا گیا کہ اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گا اور اس کی لیگل کمیٹی اس کی تیاری کر رہی ہے۔









