حال ہی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے آسام میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے معاملے پر بیان دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جو اب تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سی نے کہا کہ سال 1951 میں آسام میں مسلمانوں کی آبادی صرف 14 فیصد تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 40 فیصد ہو گئی ہے۔ آسام ایک طویل عرصے سے فرقہ وارانہ اور سماجی تنوع سے نمٹ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، آسام میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، جو ریاست کے آبادی کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہناُہے کہ آبادیاتی تبدیلی ہمارے لیے سیاسی مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک وجودی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ریاست کے آبادیاتی توازن کو متاثر کر رہا ہے اور اس سے سماجی، اقتصادی اور سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ سرما کا خیال ہے کہ آبادی میں اضافے پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کا اثر آسام کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ زیادہ آبادی وسائل پر دباؤ ڈالتی ہے، جس کی وجہ سے زراعت، تعلیم اور صحت کی خدمات میں کمی آتی ہے۔ مزید برآں، فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے جس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔
رانچی میں وجے سنکلپ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم ہمانتا بسوا سرما نے جھارکھنڈ حکومت پر دراندازوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ باہر کے دراندازوں کا جھارکھنڈ میں آنا اور قبائلی بیٹیوں کو پھنسانا ایک سنگین مسئلہ ہے، جسے جے ایم ایم اور کانگریس کی حمایت حاصل ہے۔ سرما نے کہا کہ آسام ایک سرحدی ریاست ہے، جہاں وہ ہر روز دراندازوں سے لڑتی ہے۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دراندازوں کا پتہ لگانا اور انہیں ملک بدر کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے، جسے وہ آسام میں کامیابی سے انجام دے رہی ہے۔(سورس :پانچ جنیہ)









