آسام میں مسلم میرج لا اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ آسام کی کابینہ نے جمعرات کو آسام ریپیلنگ بل کو منظوری دے دی۔ اب اسمبلی کے مانسون اجلاس میں اس پر بحث ہوگی۔ سی ایم ہمنتا بسوا سرما نے خود اس کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کی شادی کی رجسٹریشن کے لیے نیا قانون لایا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے اسی ایم بسوا سرما نے بتایا کہ آسام مسلم میرج اینڈ طلاق رجسٹریشن ایکٹ اور رولز 1935 کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ بچپن کی شادی کے خلاف اضافی تحفظات ہو سکیں اور بیٹیوں اور بہنوں کے لیے انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ مسلم میرج ایکٹ میں ایسا کیا تھا کہ آسام حکومت کو اسے منسوخ کرنے کے لیے قانون لانا پڑا؟
*آسام کا مسلم شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ کیا ہے؟
یہ ایکٹ آسام میں مسلم شادی اور طلاق کے اندراج کے طریقہ کار کا تعین کرتا ہے۔ یہ مسلم پرسنل لاء کے مطابق ہے۔ تاہم، 2010 تک، آسام میں مسلم شادی اور طلاق کا رجسٹریشن لازمی نہیں تھا۔ 2010 میں حکومت نے اس میں ترمیم کرتے ہوئے لفظ رضاکارانہ کو لازمی میں تبدیل کر دیا۔ رجسٹریشن کے عمل کا بھی قانون میں ذکر ہے۔ کسی بھی مسلمان شخص کو اس ایکٹ کے تحت ریاست میں مسلم شادی اور طلاق کو رجسٹر کرنے کا لائسنس ملتا ہے۔ اس ایکٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ بھی شادی کر سکتے ہیں جنہوں نے بالترتیب 21 اور 18 سال کی عمر پوری نہیں کی ہے۔
حکومت نے اسے کیوں منسوخ کیا؟
آسام حکومت کا خیال ہے کہ یہ قانون بہت پرانا ہے اور موجودہ حالات کے مطابق نہیں ہے۔ حکومت کا یہ بھی استدلال ہے کہ اس ایکٹ نے مسلمانوں کو شادی کے رجسٹریشن کے لیے ایک غیر رسمی طریقہ کار دیا ہے۔ جس کا قاضی غلط استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت کسی بنیاد کے بغیر کم عمری میں شادیاں کی جارہی ہیں اور طلاق کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرنے سے آسام میں کم عمری کی شادی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
*یو سی سی کی سمت بڑھتا قدم
مسلم میرج ایکٹ کی منسوخی کے ساتھ ہی آسام یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں یو سی سی کو اتراکھنڈ میں لاگو کیا گیا ہے، جبکہ اسے ملک میں بھی لاگو کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا، یہ فیصلہ لے کر، آسام حکومت نے یو سی سی کی سمت میں ایک قدم اٹھایا ہے۔ آسام حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد مختلف کمیونیٹیز کے شادی کے قوانین کو ہموار کرنا اور انہیں یکساں قانونی ڈھانچے میں لانا ہے۔









