بھارت کے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ریزرویشن کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اس طرح پرتشدد ہو جائے گا۔ صورتحال یہ ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں اب تلواریں ہیں اور وہ فوج اور پولیس سے لڑنے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب حسینہ حکومت نے بھی دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ 100 سے زائد افراد ہلاک، متعدد زخمی ہوگئے ہیں، لیکن حالات معمول پر آتے دکھائی نہیں دے رہے۔خانہ جنگی جیسے حالات نظر آرہے ہیں
فوج رہائشی علاقوں میں پہنچ گئی۔
بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے تشد سے پوری دنیا پریشان ہے، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ نوجوانوں کا یہ غصہ شیخ حسینہ کی حکومت پر بھاری ثابت ہو سکتا ہے، یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اگر سب کچھ جلد ٹھیک نہ ہوا تو یہ ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ کئی سالوں بعد بنگلہ دیش میں دیکھا جا رہا ہے کہ رہائشی علاقوں میں بھی فوج کی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے بے قابو ہجوم کو قابو کرنے کے لیے انہیں کچل دیا۔
ہنگامی صورتحال، ٹی وی چینلز بند
دوسری جانب بڑے پیمانے پر آتشزنی دیکھی گئی ہے، کئی دفاتر کو آگ لگا دی گئی ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، حکومت ڈھاکہ اور دیگر کئی شہروں میں انٹرنیٹ بند کرنے پر مجبور ہے۔ کئی ٹی وی نیوز چینلز کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس وقت کئی بنگلہ دیشی ویب سائٹس بھی نہیں کھل رہی ہیں۔ اس قسم کی صورتحال نوجوانوں کو مزید مشتعل کر رہی ہے اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کیا تحریک طلبہ کے ہاتھ سے نکل گئی؟
اب اس تشدد میں 100 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں، اس سے بھی بڑی تعداد بری طرح زخمی ہوئی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود حالات معمول پر آتے دکھائی نہیں دے رہے۔ بداعتمادی کی خلیج اس قدر بڑھ گئی ہے کہ آسمان پر ہر طرف ہیلی کاپٹر اڑ رہے ہیں، ان کے ذریعے لوگوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اب جب تشدد کی تحقیقات ہو رہی ہیں تو یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ یہ احتجاج اب طلباء کے ہاتھ سے نکل دوسرے سیاسی عناصر کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے
بھارت کے مسائل کیسے بڑھے؟
درحقیقت بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں نیپالی اور بھوٹانی لوگ ہندوستان کے میگھالیہ پہنچ چکے ہیں۔ اس کی وجہ سے ریاست میں پناہ لینے والوں کی تعداد 670 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش سے 204 ہندوستانی، 158 نیپالی اور ایک بھوٹانی شہری میگھالیہ پہنچ چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسے میں غیر مستحکم بنگلہ دیش کی وجہ سے ہندوستان میں غیر قانونی داخلے کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔(ان پٹ جن ستہ سے)










