امریکہ کے بعد چین نے بھی غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک تین نکاتی پلان پیش کیا ہے۔
3 نکاتی چینی اقدام
چین کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ بیجنگ نے غزہ کے تنازعے کے حوالے سے تین نکاتی اقدام فلسطینی دھڑوں کے سامنے پیش کیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "بیجنگ اعلامیہ” میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے فریم ورک کے اندر تمام دھڑوں کے اتحاد کا معاہدہ بھی شامل ہے۔
یہ بات چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے چینی دارالحکومت میں دھڑوں کی طرف سے "بیجنگ اعلامیہ” پر دستخط کے بعد سامنے آئی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اعلامیے میں غزہ میں جنگ کے بعد حکومت کے حوالے سے حماس اور فتح کے درمیان ایک اہم نکتے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس نکتے کے تحت غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظام پر عبوری قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ شامل ہے۔
چائنہ سنٹرل ٹیلی ویژن کے مطابق فلسطینی دھڑوں نے 21 سے 23 جولائی تک چینی دارالحکومت میں ملاقات کی اور ایک مصالحتی ڈائیلاگ منعقد کیا۔










