مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے مارچ کے مہینے میں اعلان کیا تھا کہ ریاست میں ہر گائے کے لیے 40 روپے کی گرانٹ دی جائے گی۔ اس وقت یہ رقم صرف 20 روپے تھی۔
اس کے ساتھ انہوں نے گائے کی پناہ گاہوں کے حالات بہتر کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
لیکن اب مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے مختص رقم کا ایک حصہ گائے کی بہبود اور مندروں کی دیکھ بھال کے لیے دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت کے حال ہی میں پیش کیے گئے بجٹ سے درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے محکمے کے فنڈز کو کہیں اور استعمال کرنے کے بارے میں معلومات دستیاب ہیں۔ بجٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ درج فہرست ذات اور قبائل کے لوگوں کی بہتری کے لیے پیسہ دوسرے محکموں میں خرچ کیا جا رہا ہے۔
مدھیہ پردیش حکومت نے اس سال گایوں کی بہبود کے لیے 252 کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے۔ اس بجٹ میں، 96 کروڑ روپے درج فہرست ذات- شیڈول ٹرائب خصوصی اسکیم کے لیے ہیں، جسے مرکزی حکومت نے مختص کیا تھا۔ اس کے علاوہ حکومت نے ریاست میں مندروں اور یادگاروں کو بہتر بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس کے لیے شیڈول کاسٹ اینڈ ٹرائب فنڈ سے بھی رقم دی گئی۔ محکمہ ثقافت کو اس فنڈ سے پانچ مندروں اور یادگاروں کے لیے 58 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے محکمہ خزانہ کے ایک سینئر افسر نے کہا ہے کہ درج فہرست ذات اور قبائلی محکمہ کی یہ رقم یقینی طور پر کہیں اور استعمال ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا فائدہ سب کو ہوگا۔
انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "گائے کی بہبود ہر کسی کے مفاد میں ہے اور اس سے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہو گا کہ ان فنڈز کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سماج کے تمام طبقات کے لوگ مندروں میں بھی جاتے ہیں۔ جب مندروں میں انتظامات بہتر ہوں گے تو ہر آنے والا اس سے فائدہ اٹھائے گا۔
اسی دوران بی بی سی ہندی نے مدھیہ پردیش کے درج فہرست ذات کے محکمے کے وزیر ناگر سنگھ چوہان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ میرے علم میں آیا تو میں آپ سے اس بارے میں ضرور بات کروں گا۔ لیکن یہ معاملہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے میں اس پر بات نہیں کروں گا۔‘‘
اس پورے معاملے میں مدھیہ پردیش کے دلتوں اور قبائلیوں کے درمیان کام کرنے والی جاگرت آدیواسی دلت تنظیم کی مادھوری بہن کہتی ہیں، ”حکومت کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ایس سی اور ایس ٹی زمرے کی مختلف اسکیموں کے لیے جو پیسہ آتا ہے وہ ان کا نہیں ہے۔ جیب خرچ ہے اور اسے کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔”مادھوری بہن کا کہنا ہے کہ ایس سی، ایس ٹی زمرہ کے پیسے کا اس طرح استعمال کرنا بالکل نامناسب ہے۔
اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کانگریس پارٹی اس معاملے میں حکمراں پارٹی پر حملہ کر رہی ہے۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان اونیش بنڈیلا نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کے قول و فعل میں بہت فرق ہے۔










