نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جانب سے اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں کھانے پینے کی دکانوں پرمالکان کا نام ظاہر کرنے کے حکم پر روک لگانے کے چند دن بعد، معروف مسلم مذہبی رہنما مولانا توقیر رضا خان نے کہا کہ اس حکم کا اصل اثر تب ہی نظر آئے گا جب ڈھابہ مالکان خاص طور پر مسلمانوں کی ملکیت والے، بغیر کسی خوف کے اپنے نام ظاہر کرنا شروع کر دریں گے ۔انہوں نے مسلم کمیونٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت اور اپنی ہندوستانیت کو بھی ظاہر کریں۔
خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، اتحاد ملت کونسل (IMC) کے سربراہ مولانا توقیر رضا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی ‘امتیازی’ ہدایات پر روک لگا کر صحیح مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف حکومت کے ’نقصان دہ ہتھکنڈوں‘ کو دفن کر دے گا بلکہ مختلف کمیونیٹیز کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کو بھی بحال کرے گا۔
سپریم کورٹ نے اس حکم پر پابندی لگا دی۔ یہ ہمارے نقطہ نظر پر منحصر ہے، چاہے ہم چیزوں کو منفی طور پر دیکھتے ہیں یا مثبت۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا فیصلہ ملک، معاشرے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور کون سا فیصلہ ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ مجھے لگا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کا ادراک کیا اور فیصلہ مسترد کر دیا۔
سرکردہ مسلم لیڈر نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کو اپنے عقیدے اور شناخت کو کسی بھی وجہ سے نہیں چھپانا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے اثرات تب ہی محسوس ہوں گے جب کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تاجر اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اپنا کاروبار چلائیں۔
’’میرا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو اپنا نام، چہرہ یا طریقہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمان کو مسلمان جیسا نظر آنا چاہیے۔ اگر کوئی کاروبار یا خوف کی وجہ سے اپنی شناخت چھپا رہا ہے تو میرے خیال میں یہ ایمان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے حکومتی ہدایت کے بعد نام کی تختیاں لگانا شروع کیں، وہ بھی اب اپنے نام ظاہر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو فخر سے کہنا چاہیے کہ وہ مسلمان اور ہندوستانی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔










