یوپی کی یوگی حکومت نے اب ‘لو جہاد’ پر مزید سختی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قسم کے جرم کی سزا اب عمر قید ہوگی۔ یوگی حکومت نے پیر کو ایوان میں اس سے متعلق ایک بل پیش کیا۔ اس بل میں کئی جرائم کی سزا دگنی کر دی گئی۔ لو جہاد کے تحت نئے جرائم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس بل میں غیر قانونی مذہب تبدیلی کے لیے فنڈنگ کو قانون کے تحت جرم کے دائرے میں لانے کی تیاری ہے۔ درحقیقت یوگی حکومت نے 2020 میں لو جہاد کے خلاف پہلا قانون بنایا تھا اور اسے مزید سخت بنانے کے لیے ایک آرڈیننس ایوان میں پیش کیا گیا ۔ اسے 30 جولائی کو ایوان میں پاس کیا جا سکتا ہے۔
اب تک 10 سال قید کی سزا تھی۔
یوپی حکومت نے قبل ازیں اسمبلی میں مذہبی تبدیلی کی ممانعت بل 2021 منظور کیا تھا۔ اس بل میں 1 سے 10 سال تک کی سزا کا انتظام تھا۔ اس بل کے تحت صرف شادی کے لیے کی جانے والی تبدیلی مذہب کو غلط قرار دیا جائے گا۔
جھوٹ یا دھوکہ دہی سے مذہب کی تبدیلی جرم تصور کیا جائے گا۔ رضاکارانہ مذہب کی تبدیلی کی صورت میں مجسٹریٹ کو 2 ماہ پہلے مطلع کرنا ہوگا۔ بل کے مطابق جبری یا دھوکہ دہی سے تبدیلی مذہب پر 1 سے 5 سال قید کی سزا کے ساتھ 15 ہزار روپے جرمانے کی بھی گنجائش تھی۔ اگر کسی دلت لڑکی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو 25000 روپے جرمانے کے ساتھ 3-10 سال قید کی سزا کا انتظام تھا۔آپ کو بتاتے چلیں کہ مرکزی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ مذہب کی تبدیلی کا قانون بنانا ریاستی حکومتوں کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ ریاستی حکومتوں کو ہی کرنا ہے۔










