ایران نے حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل کی جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے تہران میں آئی آر جی سی قدس فورس کے زیرانتظام گیسٹ ہاؤس سے سینیئر انٹیلی جنس افسران، فوجی افسران اور عملے سمیت دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جہاں حماس رہنما کو قتل کیا گیا تھا۔
بدھ کوعلی الصبح ہونے والے دھماکے میں اسماعیل ہانیہ کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے آنے والے ہانیہ کو بدھ کے روز قتل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ ابتدائی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی موت اسرائیلی فضائی حملے میں ہوئی، تاہم بعد میں ذرائع نے تصدیق کی کہ وہ گیسٹ ہاؤس میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے سے مارے
گئے-۔
۔حماس کو تباہ کرنے کا عزم کرنے والے اسرائیل نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ ہانیہ کی موت کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔ دو ایرانی اہلکاروں کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کی جخصوصی انٹیلی جنس یونٹ نے معاملہ کی تفتیش سنبھال لی ہے اور مشتبہ افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ انٹیلی جنس یونٹ کو امید ہے کہ وہ قتل کی ٹیم کے ان ارکان کا سراغ لگائے گی جنہوں نے قتل کی منصوبہ بندی کی، مدد کی اور اسے انجام دیا۔
دریں اثنا ٹیلی گراف اخبار نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک ذمے دار کے مطابق جس عمارت میں ہنیہ کی ہلاکت ہوئی وہاں سے مزید دھماکا خیز مواد ملے ہیں۔مزید یہ کہ موساد نے ہنیہ کے کمرے میں دھماکا خیز مواد رکھنے کے لیے ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں کی خدمات حاصل کیں۔ تہران میں ہنیہ کی قیام گاہ میں تین دھماکا خیز مواد رکھے گئے۔ بعد ازاں دور سے ان کے دھماکے کر دیے گئے۔
پاسداران انقلاب میں ذمے دار نے واضح کیا کہ موساد نے اس کارروائی کے لیے "انصار المہدی” یونٹ کے افراد کو استعمال کیا۔ یہ پاسداران انقلاب کا یونٹ ہے جو اعلی سطح کی شخصیات کے تحفظ کا ذمے دار ہے۔
مذکور ایجنٹوں کو چند منٹوں کے اندر کئی کمروں میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے دیکھا گیا۔ یہ بات عمارت کے سیکورٹی کیمروں کے مناظر رکھنے والے ذمے داران نے بتائی۔
برطانوی اخبار کے مطابق یہ ایجنٹ ملک سے باہر جا چکے ہیں تاہم ان کا ذریعہ ابھی تک ایران میں ہے۔










