نئی دہلی:کیا مغربی ایشیا آگ کے دہانے پر ہے؟ کیا ایران واقعی اسرائیل پر حملہ کرنے جا رہا ہے؟ اگر وہ حملہ کرے گا تو کب کرے گا؟ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تو اس کی تاریخ بھی بتا دی ہے۔ ان ایجنسیوں کے مطابق یہ حملہ 12 سے 13 اگست کے درمیان ہوگا وہیں دوسری طرف حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی تناؤ بڑھ گیا ہے اس کے ملٹری چیف فواد شکر اور اسماعیل ہانیہ کے اسرائیل کے ہاتھوں قتل کئے جانے کو وہ اپنے لئے چیلنج کے طور دیکھ رہا ہے ۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایران کا حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ اسرائیل کے اندر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے رہائشی علاقوں پر بھی حملہ کر سکتا ہے جس سے عام شہریوں کی موت واقع ہو گی۔ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد وہ غصہ میں ہےاور انتقام کا عہد کرچکا ہے اسماعیل ہنیہ کے قتل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے حزب اللہ تقریباً روزانہ اسرائیلی فوج کو نشانہ بنا کر فائرنگ کر رہا ہے۔یہ گروپ اسلحہ اور فوجی لحاظ سے کافی طاقتور ہے
حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر منگل کو اسرائیل کے حملے میں مارے گئے تھے۔ اس حملے میں پانچ عام شہری بھی مارے گئے۔ اس سے حزب اللہ اور ایران پریشان ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے حملوں کو صرف اسرائیلی فوجی اہداف تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ ایران کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیلی حکومت کچھ اصولوں پر عمل کر رہی تھی، جن میں سرحدی علاقوں اور فوجی اہداف تک حملوں کو محدود کرنا شامل تھا۔ لیکن بیروت میں فواد شکر کو مارنے کے لیے کیے گئے حملے میں اس اصول کی خلاف ورزی کی گئی۔
ایک ایرانی عہدیدار نے توقع ظاہر کی کہ اپنے ردعمل میں حزب اللہ اسرائیل میں وسیع اور گہرے اہداف کا انتخاب کرے گا۔ یہ رد عمل صرف فوجی اہداف اور ذرائع تک محدود نہیں رہے گا۔ جمعرات کو حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو دھمکی دی تھی کہ فواد شکر کے قتل کے بعد اسے لامحالہ آنے والے ردعمل کا انتظار کرنا پڑے گا










