حماس کے رہنما خالد قدومی نے کہا ہے کہ بم بستر کے نیچے نہیں تھا، نیویارک ٹائمز کی خبر جھوٹ ہے،اسرائیلی آرمی تنگ آگئی ہے کیونکہ ان کے کم از کم چار سے پانچ فوجی یومیہ مارے جارہے ہیں، اور انہیں اپنے ہدف کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں۔ ناجائز ریاست اپنی خفت مٹانے کےلیے جنگ پھیلانے کی خواہاں ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق ایرانی آفیشل نیوز ایجنسی ’ ارنا‘ کے بیورو چیف افضل رضا نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ اسماعیل ہانیہ کو رہائش گاہ کے اندر سے ہٹ کیا گیا۔فلسطینی صحافی عبدالرحمٰن مطر کے مطابق اسرائیل اپنے بتائے ہوئے تینوں اہداف کے حصول میں ناکام ہوگیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی سے نیو لائنز انسٹیٹیوٹ کے سنیئر ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران بخاری نے کہا کہ فرض کر لیجئے اگر ایران کامیاب حملہ کرلیتا اگر جوابی کارروائی ہوتی ہے تو اسے کے فائدے دیر پا نہیں ہوں گے اس کے بعد جو کاؤنٹر اسٹرائیک ہوگی جو ایران کی کمزوری کو مزید عیاں کر دے گی اور انہیں لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں ایرانی صحافی افضل رضا کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کا بیان یہ ہے کہ ’’ اسماعیل ہانیہ شہید کی رہائش گاہ کسی چیز سے ہٹ ہوئی ہے۔ ایران کی کی انتقامی کارروائی اپنی جگہ ہے لیکن اس میں مشرق وسطیٰ بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ تیرہ اپریل کو ایران نے اسرائیل کی رٹ کو چیلنج کیا بہت سے ممالک نے کاؤنٹر کرنے کی کوشش کی لیکن ایران نے ثبوت دنیا کے سامنے رکھا ۔بیروت میں بغداد میں حملے ہوئے ہیں اس کا یہی مطلب ہے ایران کبھی چاہتا نہیں ہے کہ جنگ پھیل جائے بلکہ ناجائز ریاست اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لیے اس کو مزید پھیلانا چاہتی ہے۔عالمی کمیونٹی اس معاملے کو سنجیدہ لے۔ نمائندہ حماس ڈاکٹر خالد قدومی نے تہران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمد اویس کے بارے میں کہا گیا کہ دو ہفتے پہلے خان یونس میں کارروائی کر کے انہیں شہید کر دیا گیا ہے یہ صرف پروپیگنڈا ہے۔










