بنگلہ دیش کی پی ایم شیخ حسینہ مستعفی ہو کر ملک چھوڑ چکی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملک سے باہر جاتے وقت ان کی بہن شیخ ریحانہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر میں بھارتی شہر اگرتلہ کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔
وزیراعظم حسینہ واجد کے ملک چھوڑنے کے بعد آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت بنے گی۔اطلاعات ہیں کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ کرلیا اور وہاں نصب شیخ مجیب الرحمن کا مجسمہ پر ہتھوڑے برسائے۔
بنگلہ دیشی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاجی مظاہرین شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ مظاہرین ان کی سرکاری رہائش گاہ سے کُرسیاں اور صوفے اُٹھا کر کے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا تشدد کے درمیان بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے ایک پریس کانفرنس میں عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے مطالبات پورے کریں گے۔ توڑ پھوڑ سے دور رہیں۔ آپ لوگ ہمارے ساتھ آئیں تو ہم حالات بدل دیں گے۔ لڑائی، انتشار اور جھگڑے سے دور رہیں۔ ہم نے آج تمام پارٹی لیڈروں سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں فوج عبوری حکومت بنائے گی۔
شیخ حسین کے استعفے پر لوگ جشن منا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہزاروں لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں۔گذشتہ کئی ہفتوں سے لوگ انھیں آمر کہہ رہے تھے یعنی مظاہرین کے مطابق یہ ایک آمر کے خلاف فتح ہے۔
بنگلہ دیش بظاہر اب ایک جماعت کی ریاست بن رہی تھی جہاں اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور نقاد کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ابتدائی طور پر شیخ حسینہ نے مظاہرین کے مطالبے کو نہیں سنا۔ انھوں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا اور 300 افراد کی اب تک ہلاکت ہوئی ہے۔حکومت کے حامی گروہوں نے بھی طلبہ کے خلاف آپریشن کیا۔اس پر لوگ مشتعل ہوئے اور انھوں نے شیخ حسینہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کا صرف ایک یہی مطالبہ تھا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود لوگ باہر نکلے اور شیخ حسینہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ہے۔
نامہ نگار اکبر حسین کے مطابق یہ بنگلہ دیش کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔










