بنگلہ دیش میں جولائی میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے ایک نوجوان کی بہت سی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
اپنے سر پر بنگلہ دیش کے جھنڈے والی پٹی باندھے ہوئے یہ نوجوان ناہید اسلام ہیں جو سوشیالوجی (شعبہ سماجیات) کے طالب علم ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ناہید اسلام سرکاری ملازمتوں کے لیے مخصوص کوٹے کے خلاف چلنے والی طلبہ تحریک کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ یہ تحریک پیر کو شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوئی۔
ناہید اسلام کو قومی سطح پر جولائی کے وسط میں اس وقت شہرت ملی جب انہیں اور ان کے ڈھاکہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم کئی طلبہ ساتھیوں کو پولیس نے حراست میں لیا۔
ناہید اسلام نے یقین دلایا کہ 17 کروڑ بنگالی عوام کو دوبارہ ’فاشسٹ دور‘ میں نہیں دھکیلیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ساتھی طلبہ کو ہندو اقلیت اور ان ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ناہید اسلام کون ہیں؟
ناہید اسلام 1998 میں ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک چھوٹا بھائی ہے جس کا نام نقیب اسلام ہے۔ ان کے والد استاد ہیں جبکہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔
نقیب اسلام جغرافیہ کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ناہید کی قوت برداشت غیرمعمولی اور وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ملک کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘
’انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں اسی حالت میں سڑک پر پھنک دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ لڑتے رہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمت نہیں ہاریں گے، ہمیں ناہید پر فخر ہے۔‘
پرتشدد سیاسی رجحانات پر تحقیق کرنے والی کورنیل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سبرینا کریم نے پیر کو بنگلہ دیش کے لیے تاریخی دن قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں جنریشن۔ زی کے زیرقیادت یہ پہلا انقلاب ہے۔‘
’فوج کے اس عمل میں کردار کے باوجود شاید اس سے جمہوری تبدیلی سے متعلق مثبت فرق پڑے۔‘










