وہ انتہائی شاطر اور چالاک ہیں، ایک ایسا شخص جسے اپنی شخصیت کی کشش میں اضافہ کرنا اور اسے کم کرنا آتا ہے۔‘
حماس کے نئے سربراہ یحیٰی السنوار کے بارے میں یہ الفاظ واشنگٹن انسٹیٹیوٹ آف نیئر ایسٹ پالیسی میں بطور ریسرچ فیلو کام کرنے والے احد یاری کے ہیں جو ماضی میں زیر حراست یحیٰی کا جیل میں چار بار انٹرویو کر چکے ہیں۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دو دن کے طویل مزاکرات کے بعد حماس نے اسماعیل ہنیہ کی جگہ یحیٰی السنوار کو نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد 2007 سے غزہ کی پٹی میں تنظیم کے قائد اب حماس کے سیاسی رہنما بن گئے ہیں۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطی پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ایران اپنے اتحادیوں سمیت اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا دھمکی دے رہا ہے
دوحہ میں دو دن کے دوران حماس کے اہم رہنماؤں کے درمیان اگلے سربراہ کی تعیناتی پر بحث ہوئی جس میں دو نام سامنے آئے۔ ایک نام محمد حسن درویش کا بھی تھا جو حماس کی شوری کونسل کے سربراہ ہیں لیکن اجلاس نے متفقہ طور پر السنوار کو چنا۔ حماس کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ اسرائیل کے لیے ایک پیغام ہے۔‘
’انھوں نے اسماعیل ہنیہ کو قتل کر دیا جو معاملات حل کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اب انھیں السنوار کا سامنا ہو گا اور عسکری قیادت کا۔‘ اسماعیل ہنیہ کو خطے میں بین الاقوامی سفارت کار حماس کی دیگر قیادت کے مقابلے میں سمجھدار شخصیت مانتے تھے جو حماس کا اہم چہرہ تھے۔
دوسری جانب السنوار کی بات کی جائے تو ان کو حماس کی سب سے زیادہ شدت پسند شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
سنوار کی ظاہری شبیہ کی بات کریں تو ان کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید ہیں جبکہ ان کی بھنویں کالی ہیں جو ان کو ظاہری طور پر منفرد بناتی ہیں۔
یاری کا کہنا تھا کہ ’وہ ایسے آدمی ہیں جن کے اردگرد ان کے حمایتی اور مداح اکھٹے ہو جاتے ہیں جن میں کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو صرف اس لیے ان کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان سے ڈرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑائی نہیں کرنا چاہتے۔‘
سنہ 1988 میں السنوار نے مبینہ طور پر دو اسرائیلی فوجیوں کا اغوا اور ہلاکت کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انھیں اسی سال گرفتار کیا گیا تھا اور اسرائیل میں انھیں 12 افراد کے قتل کے باعث چار مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
السنوار نے سنہ 1988 سے 2011 تک 22 سال جیل میں گزارے جو ان کی ادھیڑ عمر کا بڑا حصہ بنتا ہے۔ وہاں ان کا وقت کچھ عرصہ قیدِ تنہائی میں بھی گزرا اور اس کے باعث ان میں عسکریت پسند عنصر مزید شدت پکڑ گیا۔
وہ ایک ’جابر، دبدبے والے اور بااثر رہنما ہیں جن میں برداشت، چالاکی اور ساز باز کرنے اور تھوڑے وسائل پر گزارا کرنے کی غیر معمولی صلاحیتیں ہیں۔۔۔ وہ جیل میں بھی قیدیوں کے درمیان راز رکھتے تھے، اور ان میں ہجوم کی سربراہی کرنے کی صلاحیت تھی۔‘
لوواٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ اگر وہ ہلاک ہوتے ہیں تو یہ بڑا نقصان ہو گا لیکن ان کی جگہ کوئی اور آ جائے گا اور اس کے لیے بھی انتظام موجود ہے۔ یہ ویسا نہیں، جیسے اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنا تھا۔ حماس میں دیگر سیاسی اور عسکری رہنما موجود ہیں۔‘










