اسرائیلی فوج نے جمعرات کو غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے جن میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل نے 15 اگست کو غزہ میں جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ میں طبی ماہرین نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں نے وسطی غزہ کے البریج کیمپ میں مکانات کو نشانہ بنایا جن میں کم از کم 15 افراد اور قریبی النصیرات کیمپ میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ نصیرات اور بوریج غزہ کے آٹھ تاریخی کیمپوں میں سے ہیں اور اسرائیل انہیں مسلح عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ کے طور پر دیکھتا ہے۔
اسرائیلی طیاروں نے شمال میں غزہ شہر کے قلب میں ایک مکان پر بھی بمباری کی جس میں پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے، جب کہ طبی ماہرین کے مطابق جنوبی شہر خان یونس میں ایک اور فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔
میں دو سکولوں پر اسرائیلی بمباری میں 15 فلسطینی ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے غزہ شہر کے طفح محلے میں واقع عبدالفتاح حمودہ اور الزہرہ سکولوں میں شامل حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو نشانہ بنایا جہاں حماس کے عسکریت پسند کام کر رہے تھے۔
اس نے حماس پر شہریوں اور شہری املاک کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا، تاہم حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
حماس اور اسلامی جہاد کے مسلح ونگز نے کہا کہ وہ غزہ میں سرگرم اسرائیلی فورسز پر ٹینک شکن راکٹ اور مارٹر بم برسا رہے ہیں جس سے ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں راکٹ لانچنگ پیڈ بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل نے امریکی، قطری اور مصری ثالثوں کے مطالبے پر 15 اگست کو غزہ میں جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔امریکی، قطری اور مصری ثالثوں نے 10 ماہ سے جاری جنگ میں دوسری جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔










