نئی دہلی:سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں لوگوں کا ایک گروپ کچھ لوگوں کو ‘بنگلہ دیش’ کہہ کر ان پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ دہلی پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ نیوز پورٹل آج تک کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ کس جگہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں لوگوں کا ایک گروپ کچھ لوگوں کا پیچھا اور حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ مبینہ گروپ کے لوگ اسے بنگلہ دیشی کہہ رہے تھے۔
ویڈیو میں کچھ لوگ متاثرین پر لاٹھیوں سے حملہ کرتے ہوئے انہیں وہاں سے چلے جانے کو کہتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے بھی نظر آئے۔ ایک ملزم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ‘بنگلہ دیش میں ہماری ہندو بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہو رہی ہے۔’ویڈیو میں ایک شخص کو انتہائی گندی فحش گالیاں دیتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے
آج تک کی رپورٹ کے مطابق کہا جارہا ہے کہ حملہ آوروں میں وہ شخص بھی شامل ہے جس نے عام انتخابات کے وقت مشرقی دہلی سے کانگریس امیدوار کنہیا کمار کو طمانچہ مارا تھا -دہلی پولیس معاملہ کی تہہ تک پہچنے کی کوشش کررہی ہے
دوسری جانب بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کے خلاف تشدد کے درمیان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ وہ نسلی بنیادوں پر کسی بھی حملے یا تشدد کے خلاف ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے جمعرات کو کہا: ‘ہم واضح ہیں، ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں حالیہ ہفتوں میں ہونے والے تشدد کو روکا جائے۔ یقینی طور پر، ہم نسلی بنیادوں پر کسی بھی نسلی حملے یا تشدد کو بھڑکانے کے خلاف ہیں۔










