غازی آباد پولیس نے بھوپیندر شرما عرف پنکی چودھری عرف پنکی بھیا کو گرفتار کرلیا ہے، جو دو سال قبل دہلی کے جنتر منتر پر ایک خاص فرقہ کے خلاف نعرے بازی اور جے این یو کے طلبہ پر حملہ کرکے سرخیوں میں آیا تھا۔ غازی آباد پولیس نے اس کو پکڑ لیا ہے جو شہر کی ایک مسلم کالونی میں توڑ پھوڑ کر کے فرار ہو گیا تھا۔ اس ملزم کے خلاف صرف غازی آباد کے مختلف تھانوں میں 12 مقدمات درج ہیں۔ اس میں گینگسٹرایکٹ اور غنڈہ گردی کے کیس بھی شامل ہیں۔ اس کی ہسٹری شیٹ بھی تقریباً ایک سال سے کھلی ہوئی ہے۔
اس کے باوجود پنکی چودھری کے اکڑ میں کمی نہیں آئی۔ اب غازی آباد پولیس نے اس کے خلاف این ایس اے لگانے کی تیاری کر لی ہے۔ پنکی چودھری نے دو دن پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ملزم براہ راست پی ایم مودی کو وارننگ دے رہا تھا کہ اگر بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم 24 گھنٹے کے اندر بند نہ ہوئے تو وہ پورے ملک میں بنگلہ دیشیوں کو نہیں بخشے گا۔ اس کے بعد جیسے ہی 24 گھنٹے مکمل ہوئے یہ بدمعاش اپنے ساتھیوں کے ساتھ کچی بستی میں پہنچا اور وہاں رہنے والے لوگوں کو لاٹھیوں سے مار کر توڑ پھوڑ کی۔حالانہ پولیس نے کہا تھا کہ یہ بنگلہ دیشی نہیں بلکہ شاہجہانپور کے رہنے والے تھے
پولیس ویڈیو کے وائرل ہونے کا انتظار کرتی رہی
ملزم نے اس واقعہ کی ویڈیو بھی بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد بھی پولیس کوئی کارروائی کرنے کے لیے ویڈیو کے وائرل ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوا، غازی آباد پولیس نے مدھوبن باپودھم تھانے میں انڈین جسٹس کوڈ کے تحت بغاوت، حملہ، کسی خاص مذہب پر تبصرہ، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اب پولیس نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے فائل کھول دی ہے۔ غازی آباد کا ہسٹری شیٹر پنکی چودھری کے خلاف دہلی میں بھی کئی مقدمات درج ہیں۔ اس بدمعاش نے جے این یو کے طلبہ کو کمیونسٹ کہہ کر کیمرے کے سامنے مارا تھا۔










