نئی دہلی:
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے ہونے والی اموات کے لئے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے۔
این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہاہے کہ شواہد کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ جب تمام ڈاکٹروں اور ماہرین نے کہا تھا کہ دوسری لہر آئے گی تو پھر اس کے مطابق انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔ وزیر اعظم نے اس مشورے کو نہیں سنا اور اپنی مرضی سے فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک سے وعدہ کیا تھا کہ کورونا کے خلاف روڈ میپ تیار ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے 8 اپریل کو خود کہا تھا کہ ہم نے کورونا کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں۔ بی جے پی نے قرار داد پاس کرکے وزیر اعظم کی قیادت کی تعریف کی۔ وزیر اعظم اس سب کے ذمہ دار ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ہم آسٹریلیا سے کرکٹ کے میدان پر اور کورونا کے خلاف جنگ میں جیت حاصل کرلی ہے۔ اویسی نے کہا کہ دوسرے ممالک نے اپنے لئے ویکسین کا انتظام کرلیا ، لیکن ہم وقت پر نہیںجاگے اور یہ ویکسین دوسرے ممالک کو برآمد کرتے رہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا کہ آکسیجن کی ذمہ داری بھی وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے۔ آکسیجن دلانے کے لیے ہائی کورٹ جانا پڑا۔ پی ایم کی صلایت کو مودی بھکت سسٹم پر ڈال رہے ہیں ، نہ آپ نے ویکسین آرڈر کی، نہ ایڈوانس پیمنٹ دیا، اویسی نے کہا کہ آپ نے ایڈوانس پیمنٹ مارچ میں دیا، ایک طرح سے آپ نے دوسری لہر کو دعوت دی ہے، ساڑھے 4 مہینے میں ملک کی آبادی کے 3.2لوگوں کوہی ویکسین کے دو ڈوز ملے ہیں۔ 16 کروڑ لوگوں کو ایک ڈوز ملا ہے، ایسے میں اگر تیسری لہر آگئی تو کیا ہوگا؟ یہی نہیں ویکسین پر بھی سرکار جھوٹ بول رہی ہے ۔ نہ ہی ویکسین کا آرڈر دیا اور نہ ہی ایڈوانس ۔ حالت یہ ہے کہ ریاست آج ویکسین کی کمی کا ایشو اٹھارہی ہے ۔ تیسری لہر کے لیے سرکارنےکیا تیاری کی ہے۔ فائزر نے دسمبر 2020 میں اجازت مانگی تھی بھارت میں آنے کی لیکن آپ نے جون میں دی، یہ طریقہ ہے ، 200 کروڑ ڈوز کی بات بھی جھوٹی ہے ۔ لاشوں کے انبار لگ چکے ہیں ، دوسری لہر میں 4-5لاکھ لوگوں کی موت ہونے کی بات سامنے آرہی ہے ۔ اویسی نے پی ایم مودی پر طنز کستے ہوئے کہاکہ وہ کہتے ہیں کورونا پر کامیابی حاصل کرلی ہے، کہاں کی ہے ، وہ بتادیں۔
اویسی نے کہا کہ بی جے پی زمینی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکی ہے ۔لاک ڈاؤن کا تعلق وائرس روکنے سے نہیں ہے، کیا لاک ڈاؤن سے آئی سی یو بیڈ مل جائے گا، کیا لاک ڈاؤن سے بلیک فنگس کی دوا مل جائے گی۔ ہر غریب کے اکاؤنٹ میں 10,000ڈالر ڈالیئے اور پھر لاک ڈاؤن لگایئے۔ مسلم ،دلت اور آدیواسی غریبی سے دو چار ہیں۔
اے آئی ایم آئی کے صدر نے کہا کہ ‘میں اپنے پارلیمانی حلقے کے ہر ویکسینیشن سینٹر پرجا رہا ہوں۔ لوگوں سے ٹیکہ لگوانے کی اپیل کررہا ہوں، کوون ایپ کی کیا ضرورت ہے؟ بھارت میں صرف 25 فیصد انٹرنیٹ ایکسس ہے تو باقی لوگ کوون کااستعمال کیسے کریں گے؟ واک ان ویکسین کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے؟ ملک کے عوام علاج کراکر پوری بچت گنوا چکے ہیں ۔ ریاست ویکسین خردینے کو لے کر پریشان ہے۔ ایک دیگر سوال کے جواب میں اویسی نے کہا کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ اگر ایک سال کے لیے ملتوی کردیا جاتا اور یہ پیسہ اسپتال بنانے کے دے دیا جاتا تو کیا بگڑ جاتا ۔ انہوں نے کہاکہ میں مسلمانوں سے بھی اپیل کر تاہو ںکہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔ انہوں نے کہاکہ اسلام میں جان بچانے کو بڑی ذمہ داری بتایا گیا ہے۔ میں مسلمانوںسمیت پورے ملک کے تمام لوگوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔










