نئی دہلی :
اترپردیش کی یوگی سرکار نے میرٹھ کے شفیع آباد لوٹی گاؤں میں واقع 500 سالہ قدیم قبرستان کے جنوبی حصے کو حاصل کرنے کے لیے احکامات جاری کردئے ہیں تاکہ گنگا ایکسپریس وے کو وہاں سے نکالا جاسکے۔ اس خبر کے بعد سے اس گاؤں کے مسلمان پریشان ہیں۔ ریاست کو پرسنل پراپرٹی کی طرح چلانے والے یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار نے اس سال جنوری میں ہی واضح کردیا تھاکہ ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے قبرستان کا کچھ حصہ لیاجائے گا۔ اس تعلق سے گزشتہ 17 جنوری کو ہندی اخبار دینک جاگرن میں ایک پبلک نوٹس شائع کیا تھا۔
مقامی لوگوں کے مطابق نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے افسروں نے کئی ماہ قبل قبرستان کا دورہ کیا تھا اور ایکسپریس وے کے لیے غیر قانونی طور پر اس کے جنوبی حصے کو جو تقریباً 65میٹر کے دائرے میں ہے، نشان زد کیا تھا۔ وقف کی زمین کا ایسا کوئی استعمال غیرقانونی ہوگا ،کیونکہ وقف ایکٹ 1995 کے سیکشن 51 کے تحت کسی بھی وقف املاک کو حکومت حاصل نہیں کرسکتی۔
انگریزی نیوز پورٹل ’مسلم مرر ‘کی رپورٹ کے مطابق علی چودھری اور دیگر مقامی باشندے کئی ماہ سے اس کے خلاف جد وجہد کررہے ہیں ۔ انہوں نے ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ایونیش اوستھی و دیگر سینئرحکام کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کرایا ہے۔ علاوہ ازیں لوگوں نے لوکل مجسٹریٹ کے بالاجی سے کئی بار ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے یقین تودلایا ہے کہ قبرستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا یا جائے گا مگر اس تعلق سے کوئی سرکاری حکم جاری نہیں کیا ہے ۔











