ایودھیا :
شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ سے متعلق زمینی سودے میں بدعنوانی کےمعاملے میں اب الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے ۔ جہاں ایک طرف دو کروڑ کی زمین کو ٹرسٹ کی جانب سے 18.5کروڑ میں خریدنے پر ٹرسٹ کے ممبران کے درمیان گھمسان کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے ۔ وہیں یوگی سرکار نے بھی اس پورے معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے ۔
چمپت رائے چوطرفہ الزامات میں گھرے:

تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس گزشتہ قریب ایک سال سے بیمار چل رہے ہیں ۔ اس درمیان ان کے جانشین کملنائن داس نے کہاہے کہ گزشتہ ایک سال سے ٹرسٹ میں جو کچھ بھی ہو رہاہے ، اس کی انہیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ بتایا گیاہے کہ ٹرسٹ کے پاس عوام کے چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم موجود ہے،حالانکہ کملنائن کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ میں جو کچھ بھی ہو رہاہے اس کی جانکاری صدر کو ہی نہیں دی جارہی ہے۔ اتوار کو تقریباً ایک سال بعد ٹرسٹ کے ممبران نے مہنت گوپال داس سے آشیرواد لیا تھا۔ کملنائن نے سارے فیصلے جنرل سکریٹری چمپت رائے کی جانب سے لئے جانے کی بات کہی۔
بتایا گیا ہے کہ ٹرسٹ کے کچھ ممبران نے زمین کے سودوں کے بارے میں اعتراضات ظاہر کئے ہیں۔کئی لوگوںنے تو ٹرسٹ کے ممبر ٹرسٹی انل مشرا کے رول پر بھی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ دراصل جس ہریش پاٹھک – کسم پاٹھک اور سلطان انصاری – روی موہن تیواری کے درمیان بیعنامہ کے سامنے آنے کے بعد زمین کے لین دین پر تنازع پیدا ہواہے ، اس میں انل مشرا گواہ ہیں۔ رام جنم بھومی تیرتھ چھیترٹرسٹ کے دو ممبر اسے لے کر معترض ہیں۔
محکمہ ریونیو سے جانکاری طلب :
اطلاعات کے مطابق اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اس پورے معاملے کے بارے میں محکمہ ریونیو کے عہدیداروں سے معلومات لی ہیں۔ اس معاملے میں ایک رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس نے بھی اس سارے سودے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ دراصل موجودہ وقت میں اراضی کا سرکل ریٹ 5.79 کروڑ روپے ہے، ایسی صورتحال میں خریدینے والوں پر اسی عوض میں انکم ٹیکس کی بنیاد پر 30 فیصد ٹیکس اور بیچنے والوں پر 20 فیصد کی شرح سے کیپٹل گین ٹیکس لگے گا۔











