نئی دہلی:
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا اپنے بیانات کو لے کرلگاتار سرخیوں میں رہتے ہیں ۔نیوز 18 انڈیا پر ایک شو کے دوران انہوں نے کہاکہ ہندو اپنی غلطی کی وجہ سے سیکڑوں برس غلام رہا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ بنگال میں اب بھی جزیہ ٹیکس دینا پڑ رہاہے ۔
سمبت پاترا نے کہا کہ حکومتیں آئیں گی ، حکومتیں چلی جائیں گی ، اتنے سالوں سے ہندو غلام کیوں ہیں؟ کیونکہ وہ غلام خود بنتا ہے وہ بیڑیاں خود خرید کر لاتا ہے ،اپنے پیروں میں بیڑیاں ڈالتا ہے اور زنجیرکو جکڑ کر رکھتا ہے کہ میں غلام ہوں۔ انہوں نے کہاکہ لعنتہے ہم لوگوں پر۔بنگال میں ہر دن ایک خاتون کی موت ہو رہی ہے ۔ مسلم گاؤں میں ہمارے لوگ جانہیں پارہے ہیں۔ جزیہ ٹیکس ابھی بھی دینا پڑرہاہے ۔
بابر ، اورنگ زیب کے جانے کے بعد بھی جزیہ ٹیکس دے رہے ہیں، لیکن ان تمام امور پر کبھی بحث نہیں ہورہی ہے۔ کیوں ہوگا؟ کیسے ہوگا؟ کیونکہ ہمارے صحافی وہاں نہیں جارہے ہیں۔ ہمارے لوگ خوفزدہ ہیں اگر ہم ٹویٹ کریں گے تو ہم پر کیس ہوجائے گا ، وہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں۔
سوارا بھاسکر پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو ہم نے کتنا بڑا پلیٹ فارم دیا ہے ۔ یہ سوارا بھاسکر کیا اداکاری کرتی ہیں؟ لیکن ہم لوگوں نے انہیں سر پر بٹھا کر رکھاہے۔ سمبت پاترا نے کہاکہ سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جے شری رام کو لے کر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ۔ جے شری رام بولنے والے رام بھکتوں سے میں یہ امید نہیں کرتا ہوں۔
کملیش تیواری کی گردن کٹ گئی ، کیا کسی لیڈر میںہمت ہوئی سوال اٹھانے کی؟ یہ لیڈر نہیں کر سکتے ہیں؟ یہ غلطی کسی سرکار کی نہیں ہے یہ غلطی ہم لوگوں کی ہے۔ ان ہندوؤں میں بھی جو 36 کروڑ لوگ بیٹھے ہیں نہ سیکولر بن کر وہ ہماری غلطی ہے۔ ہم بغیر بلائے ٹوپی پہن کر افطار پارٹی میں جاتےہیں ۔ آپ نے کسی کو دیکھا ہے کوئی دیوالی منانے کے لیے آیا ہو۔











