کانپور:
اب جب کہ سرکار بھی کورونا کی تیسری لہر کے خدشے سے انکار نہیں کررہی ہے ، سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر یہ لہر آئی تو کیا ہوگا۔؟ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور نے میتھ میٹکل ماڈلکا اسٹڈیز کرکے اندازہ لگایا ہے کہ اگر 15 جولائی تک کورونا لاک ڈاؤن ختم ہو گیا تو ستمبر -اکتوبر میں تیسری لہر آسکتی ہے ۔ ان سے یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تویومیہ 2-5لاکھ لوگوں کے انفیکشن سے متاثر ہو نے کا امکان ہے ۔لیکن اس ماڈلنگ میں کورونا ٹیکہ لگائے جانےسے ہونے والے اثرات کو شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ ضرور کہا گیا ہے کہ اس کا مثبت اثر پڑے گا اور بہت کم لوگ اس میں متاثر ہوں گے ۔
‘’دی پرنٹ‘ کے مطابق سسپٹیبل – ری کورڈ یعنی ایس آئی آر ماڈل کی بنیاد پر اسٹڈیز کر کے تین صورت حال کا تصور کیا گیا ہے ۔اس میں کمپیوٹر پر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ایک مخصوص وقت میں ایک خاص جگہ پر ایک متعینہ پوزیشن میں بیماری کس طرح پھیل سکتی ہے ۔ اس سے کتنے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں اور کتنے لوگوں کی موت ہو سکتی ہے ۔










