فلسطینی ریاست کو ان دنوں تسلیم کرنے کے اعلانات کا ایک وسیع تر سلسلہ جاری ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان اعلانات کی بنیاد پر پیر کے روز برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بیلجیئم سمیت دس مزید ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ہیں۔ یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوگی۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سربراہی اجلاس کے موقع پر یہ ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں گے۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے لیے اس کا کیا مطلب ہوگا؟
فلسطینی ریاست کی حیثیت کیا ہے؟
‘فلسطین لبریشن آرگنائزیشن’ نے سال 1988 میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے قیام کے اعلان کے بعد جلد ہی کئی ریاستوں نے اسے تسلیم کر لیا۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 اسے تسلیم کر چکے ہیں۔ رواں سال ماہ جنوری میں میکسیکو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔
اسرائیل کا کٹر اتحادی امریکہ طویل عرصے سے کہہ رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو اس وقت تسلیم کرے گا جب دو ریاستی حل کے ذریعے فلسطینی ریاست کے ساتھ اسرائیلی ریاست کو بھی قبول عام ملے گا۔
گزشتہ ہفتوں تک یورپی طاقتیں امریکہ کی اس سلسلے میں حمایت کرتی رہی ہیں۔ تاہم 2014 کے بعد سے اس سلسلے میں کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن ووٹ کا حق نہیں رکھتی یعنی مکمل رکنیت حاصل نہیں ہے۔
فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کے جتنے بھی رکن ممالک تسلیم کر لیں۔ اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری ضروری ہے اور سلامتی کونسل میں امریکہ کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔فلسطینی سفارتی مشن فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر فلسطینی اتھارٹی کو فلسطینی عوام کی نمائندہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ صدر محمود عباس کے زیر قیادت وزارت تعلیم اور وزارت صحت کام کرتی ہے، نیز پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ جبکہ غزہ کی پٹی میں سال 2007 سے حماس انتظامی معاملات دیکھ رہی ہے۔ جہاں الفتح کو حماس سے پارلیمانی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا تھا۔ تاہم دیگر ممالک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتے ہیںاسرائیل کے یروشلم کے ساتھ الحاق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ یروشلم کو فلسطینی اپنے دارالحکومت کے طور پر مانتے ہیں۔ خیال رہے رام اللہ میں تقریباً 40 قونصل خانے ہیں۔ ان ممالک میں چین، روس، جاپان، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، مصر، اردن، تیونس اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک نے یہ نہیں کہا کہ ان کی سفارتی نمائندگی میں کیا فرق آئے گا۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عملی مطلب کیا ہوگا؟
جو محض ایک علامت کے طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں ان میں چین، بھارت، روس اور عرب ریاستیں بھی شامل ہیں جو کئی دہائیوں سے فلسطین کو تسلیم کرتی ہیں۔ بغیر اس کے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں ایک مکمل نشست ملے اور اپنی سرحدوں کو بھی خود سنبھالے۔فلسطینی اتھارٹی بھی بہت محدوداہلیت رکھتی ہے کہ وہ دو طرفہ تعلقات چلا سکے۔ فلسطینی علاقے میں دوسرے ملکوں کا کوئی سفارتخانہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ ملک اپنے سفارتکاروں کو آزادانہ بھیج سکتے ہیں۔
اسرائیل چیزوں تک رسائی پر بھی قدغنیں لگاتا ہے، سرمایہ کاری پر بھی، تعلیمی و ثقافتی تبادلوں پر بھی۔ فلسطین کے پاس کوئی ایئرپورٹ بھی نہیں ہے۔ مغربی کنارے کے چاروں طرف سے زمینی اعتبار سے بند علاقے میں پہنچنے کے لیے اسرائیلی ایئرپورٹ استعمال کرنا ہوتا ہے یا پھر اردنی ایئرپورٹ استعمال کرنے کے بعد اردن و اسرائیل کی سرحد کراس کرنا پڑتی ہے جس کی اجازت اسرائیل نہیں دے سکتا۔ گویا غزہ کی پٹی تک پہنچنے کے لیے تمام راستوں کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔
یہ ملک ابھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبوں تک ہیں جبکہ خود فلسطینی اتھارٹی بھی کہتی ہے کہ ایسا کرنا ابھی صرف خالی خولی ایک علامت اور تاثر کا باعث ہی بن سکے گا۔فلسطین کے برطانیہ میں سفیر حسام زلموت نے کہا ہے کہ اس کے تسلیم کرنے سے شراکت برابری کی بنیاد پر ہو سکے گی۔یروشلم میں سابق قونصل جنرل ونسنٹ فین نے کہا ہو سکتا ہے کہ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلے کہ اسرائیل کے ساتھ ان ملکوں کے تعلقات کی نظر ثانی کے لیے کوئی بات چیت شروع ہو سکے یا اس کا کوئی امکان پیدا ہو سکے۔
برطانیہ کے خاص معاملے میں یہ بھی امکان ہو سکتا ہے کہ مغربی کنارے میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات کو برطانیہ روک دے۔ لیکن اس سب کچھ سے اسرائیلی معیشت پر معمولی سا اثر آئے گا۔







